لکی مروت: خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں جوڈیشل کمپلیکس کے اندر ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت کے باہر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک پولیس کانسٹیبل جاں بحق اور دو افراد زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری نے عدالتی احاطے کو گھیرے میں لے کر آمدورفت محدود کر دی اور حملہ آوروں کی شناخت اور واقعے کے محرکات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دیں۔
ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کے ترجمان جلال خان کے مطابق کانسٹیبل کرامت اللہ موقع پر جان سے گئے۔ زخمیوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ضلعی اطلاعات سیکریٹری اور وکیل جاوید اقبال اور انشاء اللہ نامی شخص شامل ہیں۔ دونوں زخمیوں کو مزید علاج کے لیے بنوں منتقل کیا گیا۔ ہسپتال حکام نے ایک لاش اور دو زخمیوں کو طبی مرکز لائے جانے کی تصدیق کی ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق مسلح افراد نے عدالت کے باہر فائرنگ کی جس سے جوڈیشل کمپلیکس میں موجود وکلا، سائلین اور دیگر افراد میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ پولیس نے بعد ازاں کمپلیکس کو سیل کر کے داخلی اور خارجی نقل و حرکت روک دی تاکہ جائے وقوعہ سے شواہد محفوظ کیے جا سکیں اور سکیورٹی انتظامات کو دوبارہ منظم کیا جا سکے۔
حکام نے فوری طور پر حملے کی ذمہ داری کسی گروہ پر عائد نہیں کی اور نہ ہی دستیاب معلومات میں کسی ملزم کی گرفتاری کی تصدیق ہوئی ہے۔ اسی لیے واقعے کو اس مرحلے پر دہشت گرد حملہ یا کسی مخصوص تنازعے کا نتیجہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ پولیس کی تفتیش کا مقصد حملہ آوروں کی شناخت، ان کے ہدف اور فائرنگ کے پس منظر کا تعین کرنا ہے۔
جوڈیشل کمپلیکس حساس سرکاری مقام ہے جہاں روزانہ ججز، وکلا، پولیس اہلکار، مقدمات کے فریق اور عام شہری آتے ہیں۔ واقعے نے عدالتی تنصیبات کی سکیورٹی پر نئے سوالات اٹھائے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں پولیس اہلکاروں پر حملوں کے متعدد واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔ تازہ واقعے میں تصدیق شدہ نتیجہ ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت اور دو افراد کے زخمی ہونے تک محدود ہے، جبکہ ذمہ داروں اور محرک کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔
