اسلام آباد: پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر انگور اڈہ کے علاقے میں تازہ کشیدگی کے دوران پاکستانی فوج نے افغان طالبان کی جانب سے مبینہ بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں سرحد پار متعدد چوکیوں اور فوجی پوزیشنوں کو نشانہ بنایا۔ ایکسپریس ٹریبیون نے سرکاری ریڈیو پاکستان اور سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ کارروائی جنوبی وزیرستان اور پراچنار سے ملحق سرحدی علاقوں میں کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق افغان طالبان نے جمعرات کو انگور اڈہ کے مقام پر پاکستانی جانب فائرنگ کی، جس کے بعد پاکستانی فوج نے بھاری ہتھیاروں سے جواب دیا۔ سرکاری رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ جوابی کارروائی کے نتیجے میں افغان طالبان کے اہلکار بعض پوزیشنیں چھوڑ کر پیچھے ہٹ گئے اور متعدد پوسٹیں یا فوجی مقامات تباہ ہوئے۔
اسی سرکاری بیان میں افغان طالبان کے متعدد اہلکاروں کی ہلاکت کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔ تاہم دستیاب رپورٹ میں ان ہلاکتوں کی آزادانہ تصدیق، افغان حکام کا تفصیلی موقف یا کسی غیر جانب دار ذریعے سے جانی نقصان کی توثیق شامل نہیں، اس لیے ہلاکتوں اور نقصان کے اعداد کو سکیورٹی ذرائع کے دعوے کے طور پر بیان کرنا ضروری ہے۔
تازہ واقعہ اس سے چند روز قبل 27 اکتوبر کو انگور اڈہ، لوئر جنوبی وزیرستان میں پیش آنے والی سرحدی فائرنگ کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ پاکستانی ذرائع کے مطابق اس روز بھی افغان طالبان فورسز نے پاکستانی سرحدی پوسٹوں اور شہری علاقوں کی طرف فائرنگ کی تھی۔ موجودہ کشیدگی میں دونوں جانب کی کارروائیوں کی مکمل تفصیل فوری طور پر دستیاب نہیں ہوئی۔
پاکستانی سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ فورسز ملک کے دفاع اور شہریوں کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں اور قومی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ سرحدی واقعات کی نوعیت کے باعث زمینی حقائق اور نقصانات سے متعلق دعوے اکثر متحارب فریقوں کے بیانات پر منحصر ہوتے ہیں؛ اس لیے کسی بھی حتمی نتیجے کے لیے دونوں جانب کے سرکاری موقف اور آزادانہ تصدیق اہم ہوگی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاک افغان تعلقات میں سرحدی سلامتی اور عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں کے معاملات پہلے ہی نمایاں اختلافات کا سبب ہیں۔ تازہ فائرنگ سے سرحدی آبادیوں کی سلامتی اور دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
