لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کو صوبے کے تمام سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کے اندراج اور علاج سے متعلق رائج ’پرچی‘ یا سلپ نظام ختم کرنے کے اپنے وعدے پر چار ہفتوں کے اندر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت میں یہ معاملہ بنیادی صحت کی سہولتوں اور شہریوں کے آئینی حقوق سے متعلق ایک عوامی مفاد کی درخواست کی سماعت کے دوران سامنے آیا۔

جسٹس ملک جاوید اقبال وینس نے 2020 میں جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار نے آئین کے آرٹیکل 4 اور 9 کے تحت بنیادی حقوق کے نفاذ اور سرکاری اسپتالوں میں بنیادی طبی سہولتوں سے متعلق اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں پر عملدرآمد کی استدعا کر رکھی ہے۔ سماعت کے دوران محکمہ صحت کی نمائندگی بھی عدالت میں موجود تھی۔

عدالت کی ہدایت کا مرکز صوبائی حکومت کی وہ یقین دہانی ہے جس کے تحت سرکاری اسپتالوں میں موجود پرچی نظام ختم کیا جانا ہے۔ اس نظام کے خاتمے کا مقصد مریضوں کے لیے رسائی کو زیادہ منظم اور شفاف بنانا اور ایسے انتظامی مراحل کم کرنا ہے جو علاج کے حصول میں رکاوٹ یا تاخیر پیدا کر سکتے ہیں۔ عدالت نے نئی طبی پالیسی خود وضع نہیں کی بلکہ حکومت کی دی گئی یقین دہانی پر مقررہ مدت میں عملدرآمد کا تقاضا کیا ہے۔

سرکاری اسپتالوں میں روزانہ بڑی تعداد میں مریض علاج کے لیے آتے ہیں، اس لیے رجسٹریشن، قطار، ریکارڈ اور مریض کی متعلقہ شعبے تک رسائی کا نظام براہ راست خدمات کے معیار پر اثر انداز ہوتا ہے۔ عدالتی حکم کے بعد صوبائی محکمہ صحت کو نہ صرف پرانے طریقہ کار کے خاتمے بلکہ اس کے متبادل انتظامات کو عملی اور قابلِ رسائی بنانے کی ذمہ داری بھی درپیش ہوگی۔

اس مقدمے کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ یہ صحت کی سہولت کو محض انتظامی معاملہ نہیں بلکہ بنیادی حقوق اور ریاستی ذمہ داری کے تناظر میں دیکھتا ہے۔ آئندہ سماعتوں میں یہ واضح ہوگا کہ پنجاب حکومت نے چار ہفتوں کی مدت کے اندر کن اسپتالوں میں کیا تبدیلیاں نافذ کیں اور آیا نئے انتظامات سے مریضوں کے لیے علاج تک رسائی میں عملی بہتری آئی یا نہیں۔