کوئٹہ میں بلوچستان کے محکمہ صحت نے سرکاری ڈیوٹی سے طویل اور غیر مجاز غیرحاضری پر 72 ڈاکٹروں کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔ محکمہ صحت کے نوٹیفکیشن کے مطابق کارروائی میڈیکل افسران اور سینئر میڈیکل افسران کے خلاف کی گئی اور برطرفی کے احکامات فوری طور پر نافذ ہو گئے ہیں۔ صوبائی حکومت طبی عملے کی حاضری کی نگرانی کیلئے مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام استعمال کر رہی ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق کارروائی بلوچستان ایمپلائز ایفیشنسی اینڈ ڈسپلنری ایکٹ 2011 کی متعلقہ شق کے تحت کی گئی۔ نوٹیفکیشن میں وجہ سرکاری ڈیوٹی سے غیر مجاز غیرحاضری بتائی گئی ہے۔ صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ متعلقہ ڈاکٹروں کو بار بار ڈیوٹی پر حاضر ہونے کے نوٹس دیے گئے، تاہم انہوں نے جواب نہیں دیا، جس کے بعد محکمانہ کارروائی کی گئی۔
حکام کے مطابق تازہ برطرفیوں کے بعد محکمہ صحت سے نکالے جانے والے ملازمین کی مجموعی تعداد 200 تک پہنچ گئی ہے۔ غیرحاضری کی بنیاد پر ملازمین کی تنخواہوں سے اب تک تقریباً 41 کروڑ روپے کی کٹوتی بھی کی جا چکی ہے۔ مزید 11 ہزار ملازمین کو حاضری اور نظم و ضبط کے قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں پر وضاحت کیلئے نوٹس جاری کیے گئے ہیں، جبکہ تقریباً 800 ملازمین کے خلاف محکمانہ کارروائی جاری ہے۔
وزیر صحت کا کہنا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں اور صحت مراکز میں عملے کی موجودگی بہتر بنانے کیلئے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے۔ صوبائی حکومت کے مطابق اے آئی پر مبنی حاضری نظام کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ تعینات ڈاکٹر اور دیگر اہلکار باقاعدگی سے اپنی ڈیوٹی پر پہنچ رہے ہیں یا نہیں، تاکہ دور دراز علاقوں سمیت سرکاری مراکز میں طبی خدمات متاثر نہ ہوں۔
یہ اقدام بلوچستان کے صحت کے شعبے میں انتظامی نگرانی سخت کرنے کی وسیع کوشش کا حصہ ہے۔ تاہم برطرفی ایک محکمانہ فیصلہ ہے، اور کسی بھی متاثرہ ملازم کے قانونی یا محکمانہ اپیل کے حقوق متعلقہ قوانین کے تابع رہیں گے۔ دستیاب رپورٹ میں کسی مخصوص ڈاکٹر کی انفرادی وضاحت یا اپیل کا نتیجہ بیان نہیں کیا گیا، اس لیے کارروائی کو حتمی عدالتی فیصلہ نہیں بلکہ محکمہ صحت کی انتظامی کارروائی کے طور پر دیکھا جائے گا۔
