لاہور: پاکستان ریلوے نے لاہور ریلوے اسٹیشن پر قراقرم ایکسپریس کے اپ گریڈ شدہ 20 کوچز پر مشتمل ریک کا افتتاح کر دیا ہے۔ ریلوے کے مطابق ٹرین میں مختلف سفری درجات کے ساتھ جدید سہولیات شامل کی گئی ہیں اور اس کی کمرشل مینجمنٹ نجی شعبے کے انتظام کے تحت ہوگی۔

پاکستان ریلوے کے ترجمان کے مطابق اپ گریڈ شدہ قراقرم ایکسپریس میں اے سی سلیپر، اے سی بزنس، اے سی اسٹینڈرڈ اور اکانومی کلاس شامل ہیں۔ ٹرین لاہور اور کراچی دونوں سمتوں سے روزانہ سہ پہر تین بجے روانہ ہوگی اور دونوں شہروں کے درمیان سفر تقریباً 19 گھنٹوں میں مکمل کرنے کا شیڈول بتایا گیا ہے۔

راستے میں ٹرین رائیونڈ، ساہیوال، خانیوال، بہاولپور، روہڑی، نواب شاہ، حیدرآباد، لانڈھی اور ڈرگ روڈ پر رکے گی۔ اس طرح اپ گریڈیشن صرف کوچز تک محدود نہیں بلکہ مسافر خدمات اور کمرشل آپریشن کے نئے انتظام کے ساتھ پیش کی گئی ہے۔

ریلوے حکام کے مطابق مسافروں کو منرل واٹر، تازہ تیار کھانا، بستر، موبائل چارجنگ، وائی فائی اور انفوٹینمنٹ کی سہولت فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔ اے سی سلیپر اور اے سی بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے بعض اضافی اعزازی خدمات بھی شامل کی گئی ہیں۔ ان سہولیات کی مستقل دستیابی اور معیار کا عملی جائزہ روزمرہ آپریشن کے دوران ہی سامنے آئے گا۔

ٹرین کی کمرشل مینجمنٹ نجی شعبے کے حوالے کرنے کا مقصد، ریلوے کے بیان کے مطابق، مسافر خدمات کو بہتر بنانا اور سفر میں جدید سہولتیں فراہم کرنا ہے۔ تاہم ٹرین کا بنیادی ریل آپریشن پاکستان ریلوے کے قومی نیٹ ورک اور اس کے شیڈول و حفاظتی نظام کے اندر ہی جاری رہے گا۔

قراقرم ایکسپریس لاہور اور کراچی کے درمیان اہم طویل فاصلے کی مسافر سروس ہے۔ اس روٹ پر ریل کو بسوں اور فضائی سفر کے ساتھ مقابلہ بھی درپیش رہتا ہے، اس لیے وقت کی پابندی، کوچز کی صفائی، کھانے اور انٹرنیٹ جیسی سہولیات کا معیار مسافروں کے تجربے کے لیے اہم ہوگا۔

پاکستان ریلوے نے افتتاح کے موقع پر کسی نئے کرایہ ڈھانچے یا نجی انتظام کی مالی شرائط کی تفصیل جاری نہیں کی۔ اس لیے اپ گریڈیشن کے مالی اور کمرشل نتائج کا اندازہ مستقبل کے آپریشن، مسافر تعداد، آمدنی اور سروس معیار کے اعدادوشمار سے کیا جا سکے گا۔