اسلام آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں تجاوزات کے خلاف جاری کارروائی کسی سیاسی یا بااثر شخصیت کی وجہ سے نہیں روکی جائے گی۔ ان کا بیان کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی جانب سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ سے متعلق تجاوزات کا نوٹس جاری کیے جانے کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔

طلال چوہدری نے ایک ٹیلی وژن خطاب میں فضل الرحمان کی رہائش گاہ کے باہر موجود سکیورٹی کیبن اور جنریٹر کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا اور کہا کہ تجاوزات کا دفاع مناسب نہیں۔ سی ڈی اے نے ایک روز قبل نوٹس میں بعض تعمیرات اور سرکاری زمین پر مبینہ تجاوزات کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں 15 دن میں ہٹانے کی ہدایت کی تھی۔ یہ نکات سی ڈی اے اور وزیر مملکت کے مؤقف پر مبنی ہیں؛ متعلقہ جائیداد کے مالکان یا جے یو آئی (ف) کا قانونی مؤقف اس خبر میں حتمی عدالتی فیصلے کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا۔

وزیر مملکت نے کہا کہ کارروائی کا معیار سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے، خواہ معاملہ کسی عام شہری کا ہو یا کسی بڑی سیاسی شخصیت کا۔ انہوں نے وفاقی دارالحکومت میں پہلے کی گئی کارروائیوں کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری یا گرین بیلٹ کی زمین پر قائم ڈھانچے بھی ہٹائے گئے ہیں۔ ان کے مطابق بعض بڑے ہوٹلوں اور عمارتوں کی حدود سے باہر قائم دیواروں کے خلاف بھی کارروائی کی گئی۔

طلال چوہدری نے کہا کہ ایک پولیس اسٹیشن جو سرکاری زمین اور جزوی طور پر گرین بیلٹ پر قائم تھا، اسے بھی ختم کیا گیا، جبکہ فرنٹیئر کانسٹیبلری کے زیر استعمال ایک پارک سے دفاتر ہٹا کر جگہ کو دوبارہ پارک میں تبدیل کیا گیا۔ انہوں نے ایکسپریس وے کے اطراف غیر قانونی پیٹرول پمپس، شادی ہالز اور دیگر تعمیرات کے خلاف کارروائیوں کا بھی حوالہ دیا۔

انہوں نے سیکٹر ای-11 میں ایسے الاٹیوں کا ذکر کیا جنہیں ان کے مطابق الاٹمنٹ لیٹرز ملنے کے باوجود غیر قانونی قابضین سے پلاٹس کا قبضہ نہیں مل سکا۔ وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ حکومت اور شہری ادارے سرکاری زمین اور عوامی مقامات کو غیر قانونی استعمال سے واگزار کرانے کی مہم جاری رکھیں گے۔

فضل الرحمان کی رہائش گاہ سے متعلق نوٹس ایسے وقت سامنے آیا جب جے یو آئی (ف) کے سربراہ اور وفاقی حکومت کے درمیان سیاسی بیانات میں تناؤ بڑھا ہوا ہے۔ تاہم تجاوزات کے نوٹس کی قانونی حیثیت، متعلقہ تعمیرات کی ملکیت اور حدود کا حتمی تعین متعلقہ دستاویزات، ادارہ جاتی کارروائی یا عدالتی جائزے سے ہوگا۔ اس لیے سرکاری دعووں کو کسی شخص کے خلاف ثابت شدہ قانونی خلاف ورزی کے مترادف نہیں سمجھا جانا چاہیے۔