پشاور: خیبر پختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن نے اپنی تازہ کارکردگی رپورٹ میں بتایا ہے کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران صوبے بھر میں 1,465 غیر قانونی طبی مراکز سیل کیے گئے۔ کمیشن کے مطابق اس مدت میں مجموعی طور پر 6,673 صحت مراکز کا معائنہ کیا گیا، جبکہ مختلف ضابطہ جاتی خلاف ورزیوں پر 2,668 مراکز کو وضاحت طلب نوٹس بھی جاری کیے گئے۔
کمیشن کے ترجمان اعظم رحمان کے مطابق کارروائیوں کے ساتھ ساتھ صحت مراکز کی رجسٹریشن اور لائسنسنگ کے عمل کو بہتر بنانے اور شہریوں کی شکایات کے ازالے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ تین ماہ کے دوران 610 نئے طبی مراکز رجسٹر ہوئے، جس کے بعد صوبے میں رجسٹرڈ ہیلتھ کیئر سہولیات کی مجموعی تعداد 22,910 تک پہنچ گئی۔
اسی عرصے میں 52 طبی مراکز کو مکمل لائسنس جاری کیے گئے۔ کمیشن کے اعدادوشمار کے مطابق 2023 سے اب تک مکمل لائسنس حاصل کرنے والے مراکز کی مجموعی تعداد 326 ہو گئی ہے۔ رجسٹریشن اور مکمل لائسنسنگ الگ مراحل ہیں، اس لیے رجسٹرڈ مراکز کی بڑی تعداد کو مکمل لائسنس یافتہ مراکز کی تعداد کے برابر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
کارکردگی رپورٹ میں عوامی شکایات کے اعدادوشمار بھی شامل ہیں۔ کمیشن کو صحت خدمات سے متعلق 267 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 203 کو نمٹانے کی اطلاع دی گئی ہے۔ باقی شکایات کے بارے میں رپورٹ میں فراہم کردہ مختصر تفصیل سے ان کی موجودہ حیثیت یا نوعیت واضح نہیں ہوتی۔
کمیشن کے ڈائریکٹر آپریشنز ارسلان احمد خان نے کہا کہ رجسٹریشن اور لائسنسنگ کا مقصد شہریوں کو معیاری طبی خدمات کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ صوبائی سطح پر غیر قانونی یا غیر ضابطہ طبی مراکز کے خلاف کارروائی مریضوں کی حفاظت، اہل عملے کی دستیابی، طبی طریقہ کار اور بنیادی سہولیات کے معیار سے براہ راست متعلق ہے۔
تاہم سیل کیے گئے مراکز کی تعداد اپنے طور پر کسی مخصوص مرکز کے خلاف مجرمانہ جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں۔ رپورٹ میں کارروائی کو ریگولیٹری نگرانی کے تناظر میں بیان کیا گیا ہے، اور جہاں کسی مرکز کے خلاف الگ قانونی یا فوجداری کارروائی ہو وہاں اس کا تعین متعلقہ قانونی عمل کے مطابق ہوگا۔
تین ماہ کی رپورٹ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ کمیشن ایک طرف غیر قانونی مراکز کے خلاف نفاذی کارروائی کر رہا ہے اور دوسری طرف نئے مراکز کو رسمی رجسٹریشن اور لائسنسنگ کے دائرے میں لانے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔ آئندہ کارکردگی کا اہم پیمانہ یہ ہوگا کہ رجسٹرڈ مراکز کتنی تیزی سے مکمل لائسنسنگ کے تقاضے پورے کرتے ہیں اور عوامی شکایات کے حل کی شرح میں کس حد تک بہتری آتی ہے۔
