کوئٹہ: بلوچستان میں ڈاکٹروں کی نمائندہ تنظیموں نے صوبائی حکومت کی جانب سے عائد کیے گئے بعض ٹیکسوں کے خلاف یکم نومبر سے ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ ڈاکٹروں کا موقف ہے کہ نئی مالی ذمہ داریاں غیر منصفانہ ہیں اور پہلے سے دباؤ کا شکار طبی عملے پر اضافی بوجھ ڈالتی ہیں۔

تنظیموں کے نمائندوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ متنازع ٹیکس واپس لیے جائیں اور ڈاکٹروں کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے قابل قبول حل نکالا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مطالبات پر پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں احتجاجی لائحہ عمل کے تحت ہڑتال شروع کی جائے گی۔ دستیاب رپورٹنگ میں ہڑتال کے تمام مراحل اور ہر طبی شعبے کے لیے تفصیلی استثنا واضح نہیں، اس لیے مریضوں کی خدمات پر حتمی اثر کا انحصار تنظیموں کے عملی شیڈول پر ہوگا۔

بلوچستان کے سرکاری ہسپتال پہلے ہی افرادی قوت، وسائل اور دور دراز علاقوں تک صحت کی خدمات کی رسائی جیسے مسائل کا سامنا کرتے ہیں۔ اگر بڑے پیمانے پر ہڑتال ہوئی تو او پی ڈی اور معمول کی طبی خدمات متاثر ہوسکتی ہیں، جبکہ ایمرجنسی خدمات کے بارے میں تنظیموں کی مخصوص ہدایات اہم ہوں گی۔

ڈاکٹروں نے ٹیکسوں کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیا ہے، جو احتجاج کرنے والی تنظیموں کا موقف ہے۔ صوبائی حکومت کے ٹیکس اقدامات کے قانونی یا مالی جواز کے بارے میں حتمی فیصلہ متعلقہ پالیسی دستاویزات اور حکومتی موقف کی روشنی میں کیا جا سکتا ہے۔ اس مرحلے پر خبر کسی ٹیکس کو غیر قانونی قرار نہیں دیتی۔

ہڑتال یکم نومبر سے شروع کرنے کا اعلان حکومت اور ڈاکٹروں کے درمیان مذاکرات کے لیے محدود وقت چھوڑتا ہے۔ اگر فریقین اس سے پہلے کسی سمجھوتے پر پہنچتے ہیں تو احتجاجی پروگرام تبدیل یا مؤخر ہوسکتا ہے۔ مریضوں کے لیے ضروری ہوگا کہ متعلقہ ہسپتالوں اور محکمہ صحت کی تازہ ہدایات پر نظر رکھیں، خصوصاً معمول کے معائنے یا طے شدہ علاج کے لیے۔