لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے اور اپنے فیصلے کی وجوہات میں عدلیہ پر انتظامیہ کے بڑھتے ہوئے کنٹرول، حالیہ آئینی تبدیلیوں اور ذاتی صحت سے متعلق مسائل کا حوالہ دیا ہے۔ ڈان کی 28 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق جسٹس کیانی نے صدرِ پاکستان کے نام استعفے میں لکھا کہ موجودہ حالات میں ان کا ضمیر انہیں بنچ پر کام جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیتا۔
رپورٹ کے مطابق مستعفی جج نے بالخصوص 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کا ذکر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ان تبدیلیوں نے ہائی کورٹس کی آزادی اور ادارہ جاتی سالمیت کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے ججوں کی تقرری اور تبادلوں تک انتظامیہ کے اثر کے بارے میں بھی اپنی تشویش بیان کی۔ یہ جسٹس کیانی کا اپنا آئینی اور ادارہ جاتی جائزہ ہے؛ اسے کسی عدالت کی حتمی قانونی تشریح یا دوسرے ریاستی اداروں کے متفقہ موقف کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
جسٹس کیانی نے لکھا کہ انہوں نے عدالتی ملازمت کے دوران مختلف نوعیت کے 23 ہزار سے زیادہ مقدمات نمٹائے اور بنیادی حقوق اور آئین کے تحفظ کی کوشش کی۔ انہوں نے عام سائل کی مشکلات کو بھی اپنی تشویش کا اہم پہلو قرار دیا۔ استعفے میں صحت کے مسائل، جن میں حالیہ سرجری کے بعد کی صورتحال بھی شامل ہے، کو ذاتی وجوہات کے طور پر بیان کیا گیا۔
جسٹس کیانی اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ میں سینئر پیونی جج رہے اور اپریل 2026 میں لاہور ہائیکورٹ منتقل ہوئے تھے۔ بین الہائیکورٹ تبادلوں سے متعلق قانونی تنازع اور انتظامی اختیارات کے معاملات پہلے ہی عدالتی سطح پر زیر بحث رہے ہیں۔ ان کا استعفیٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب عدالتی ڈھانچے، ججوں کی تقرری و تبادلوں اور آئینی ترامیم کے اثرات پر ملک میں وسیع قانونی و سیاسی بحث جاری ہے۔
اس پیش رفت کا تصدیق شدہ بنیادی نکتہ جسٹس محسن اختر کیانی کا استعفیٰ اور ان کی جانب سے تحریری طور پر بیان کردہ وجوہات ہیں۔ آئینی ترامیم یا انتظامیہ کے کردار سے متعلق ان کے تحفظات ان کا موقف ہیں، جن پر دوسرے اداروں یا فریقوں کے الگ قانونی اور سیاسی مؤقف ہو سکتے ہیں۔

