اسلام آباد: قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ کراچی کے تقریباً 72 فیصد بجلی فیڈرز لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ ہیں اور ان میں تمام صنعتی فیڈرز بھی شامل ہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق پارلیمانی سیکریٹری برائے توانائی عامر طلال نے شہر میں بجلی کی بندش سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے یہ اعداد و شمار پیش کیے۔
عامر طلال کے مطابق باقی 28 فیصد فیڈرز پر بجلی چوری اور بلوں کی عدم ادائیگی کی بنیاد پر لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی نیشنل الیکٹریسٹی پالیسی 2021 کے مطابق ہے اور ملک کی دیگر بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں بھی اسی اصول کے تحت عمل کیا جاتا ہے۔ یہ اعداد و شمار حکومتی بیان پر مبنی ہیں؛ انفرادی علاقوں میں صارفین کا تجربہ فیڈر کی درجہ بندی اور مقامی خرابیوں کے باعث مختلف ہو سکتا ہے۔
پارلیمانی سیکریٹری نے حالیہ بجلی کی پیداوار میں خلل کو آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد پیدا ہونے والے گیس بحران سے بھی جوڑا۔ ان کے مطابق 6 سے 12 اکتوبر کے درمیان ایل این جی کارگوز دستیاب نہ ہونے سے بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی، لیکن کارگوز پہنچنے کے بعد کراچی میں بجلی کی فراہمی معمول پر آ گئی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ کراچی میں ترقیاتی کاموں کے دوران غیر مجاز کھدائی سے کے-الیکٹرک کے زیر زمین کیبل نیٹ ورک کو نقصان پہنچتا ہے، جو بعض غیر اعلانیہ بندشوں کی بڑی وجوہ میں شامل ہے۔ ان کے مطابق کنڈوں کے خلاف کارروائی اور عارضی کنکشن منقطع کرنا چوری روکنے کے اقدامات ہیں اور انہیں شیڈول لوڈشیڈنگ سے الگ سمجھا جانا چاہیے۔
حکومت بجلی چوری اور دانستہ عدم ادائیگی کے خلاف قانونی فریم ورک سخت کرنے پر بھی غور کر رہی ہے۔ تاہم کسی نئی فوجداری شق یا نفاذ کے طریقہ کار کو حتمی قانون اس وقت ہی سمجھا جائے گا جب متعلقہ قانون سازی مکمل ہو۔ کراچی میں بجلی کی فراہمی پر بحث میں تکنیکی خرابی، واجبات، چوری، ایندھن کی دستیابی اور شہری انفراسٹرکچر کے مسائل ایک ساتھ اثر انداز ہوتے ہیں۔
