کراچی: سندھ کے وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی ساؤتھ سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ جیو نیوز کے مطابق ویڈیو میں مبینہ طور پر ایک گاڑی میں سوار مسلح افراد کراچی کے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے مختلف مقامات پر شہریوں کو ہراساں اور دھمکاتے دکھائی دیتے ہیں۔

وزیر داخلہ نے پولیس کو ہدایت کی کہ فوٹیج میں نظر آنے والے افراد کی شناخت کی جائے اور ویڈیو کی اصلیت، وقت، مقام اور واقعے کے حالات کی مکمل جانچ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو اسلحہ دکھا کر خوفزدہ کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔

رپورٹ کے مطابق وائرل فوٹیج میں بعض افراد راہ گیروں کو مبینہ طور پر دھمکاتے اور ان کا مذاق اڑاتے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ ایک نقاب پوش شخص کے ہاتھ میں ہتھیار نظر آتا ہے۔ تاہم جیو نیوز نے واضح کیا ہے کہ ویڈیو کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی اور ابھی یہ بھی قطعی طور پر معلوم نہیں کہ اسے کب اور کن مخصوص مقامات پر ریکارڈ کیا گیا۔

اسی لیے ویڈیو میں دکھائی دینے والے طرزِ عمل کو اس مرحلے پر ثابت شدہ جرم یا کسی مخصوص شخص کی قانونی ذمہ داری قرار نہیں دیا جا سکتا۔ پولیس کی تفتیش میں فوٹیج کی فرانزک یا تکنیکی جانچ، گاڑی اور افراد کی شناخت اور ممکنہ متاثرین یا گواہوں کے بیانات اہم ہو سکتے ہیں۔

وزیر داخلہ نے ڈی آئی جی ساؤتھ کو واقعے کے بارے میں جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ پولیس نے خبر سامنے آنے تک کسی ملزم کی شناخت یا گرفتاری کا باضابطہ اعلان نہیں کیا تھا۔ اگر ویڈیو مستند ثابت ہوتی ہے تو متعلقہ افراد کے خلاف قابل اطلاق فوجداری اور اسلحہ قوانین کے تحت کارروائی کا تعین تفتیشی نتائج کی بنیاد پر ہوگا۔