پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے چارسدہ میں دس برس قبل ایک خاتون کے قتل کے مقدمے میں ٹرائل کورٹ سے بری ہونے والے ملزم فضل محمد کی بریت کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ ڈان کے مطابق جسٹس صاحبزادہ اسداللہ اور جسٹس انعام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے مقتولہ وجاہت کے شوہر وصل خان کی اپیل منظور کی۔
عدالت نے ملزم کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 302 کے تحت قتل عمد کا مجرم قرار دیا اور عمر قید کے ساتھ مقتولہ کے قانونی ورثا کو پانچ لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ بینچ نے دفعہ 449 کے تحت گھر میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کے جرم میں سات سال قید بامشقت اور دو لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی۔ عدالت کے مطابق دونوں سزائیں بیک وقت چلیں گی۔
مقدمے کی ایف آئی آر 29 ستمبر 2016 کو چارسدہ کے نساطہ پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی تھی۔ استغاثہ کے مطابق رات کے وقت مقتولہ نے گھر میں شور اور قدموں کی آواز سنی اور تین مسلح افراد کو دیکھا۔ الزام تھا کہ خاتون نے مزاحمت کی تو اس پر فائرنگ کی گئی، جس سے وہ زخمی ہوئی اور بعد میں اس واقعے کو قتل کے مقدمے کے طور پر چلایا گیا۔
استغاثہ کا مؤقف تھا کہ فضل محمد کو مقتولہ کے شوہر اور مقامی افراد نے موقع پر قابو کر لیا تھا جبکہ دو دیگر افراد فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔ چارسدہ کے ایڈیشنل سیشن جج نے 21 ستمبر 2021 کو ملزم کو بری کر دیا تھا، جس کے خلاف مقتولہ کے شوہر نے ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔
ہائیکورٹ کا تازہ فیصلہ اپیل میں ٹرائل کورٹ کے نتیجے کو تبدیل کرتا ہے اور ملزم کو باقاعدہ سزا یافتہ قرار دیتا ہے۔ عدالتی فیصلوں کے خلاف قانون کے تحت دستیاب مزید اپیل یا قانونی چارہ جوئی کا حق اپنی جگہ موجود رہتا ہے، تاہم موجودہ مرحلے پر پشاور ہائیکورٹ کی سنائی گئی عمر قید نافذ عدالتی حکم ہے۔
