کراچی: موسم میں تبدیلی کے ساتھ کراچی کے بڑے ہسپتالوں میں فلو اور سانس کی علامات کے مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ رپورٹ ہوا ہے۔ طبی ماہرین نے شہریوں، خصوصاً بچوں، بزرگوں اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور ہجوم والی جگہوں پر ماسک پہننے کا مشورہ دیا ہے۔
جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کے طبی عملے کے مطابق ہسپتال میں روزانہ تقریباً 70 سے 80 ایسے مریض آ رہے ہیں جن میں فلو سے ملتی جلتی علامات پائی جاتی ہیں۔ سول ہسپتال کراچی میں بھی ڈاکٹروں نے حالیہ دنوں میں کیسز بڑھنے کی اطلاع دی ہے اور بعض شعبوں میں معمول کے مقابلے میں مریضوں کی تعداد دوگنی ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق درجہ حرارت اور نمی میں تبدیلی، بند جگہوں پر زیادہ وقت گزارنا اور موسمی وائرس کی گردش فلو کے پھیلاؤ میں کردار ادا کرسکتی ہے۔ بخار، کھانسی، گلے کی تکلیف، جسم میں درد اور تھکن عام علامات میں شامل ہیں۔ ڈاکٹر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ شدید سانس کی دشواری، مسلسل تیز بخار یا خطرے سے دوچار مریضوں میں بگڑتی علامات کی صورت میں طبی معائنہ ضروری ہے۔
طبی ماہرین نے ہاتھوں کی صفائی، کھانستے یا چھینکتے وقت منہ ڈھانپنے، بیمار ہونے کی صورت میں غیر ضروری میل جول محدود کرنے اور پرہجوم مقامات پر ماسک استعمال کرنے کی سفارش کی ہے۔ انہوں نے سالانہ فلو ویکسین کو بھی خصوصاً بزرگوں، بچوں اور پہلے سے بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے مفید حفاظتی اقدام قرار دیا ہے۔
رپورٹ میں کسی نئی وبا یا غیر معمولی وائرس کی تصدیق نہیں کی گئی؛ موجودہ اضافہ موسمی فلو کے کیسز کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس لیے شہریوں کے لیے مناسب احتیاط ضروری ہے، تاہم دستیاب معلومات کی بنیاد پر اسے کسی نئی وبائی ایمرجنسی کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔
