اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اسلام آباد ماڈل جیل میں قیدیوں کی منتقلی کے پہلے مرحلے میں اڈیالہ جیل سے وفاقی دارالحکومت کے 1500 قیدی منتقل کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق اس وقت اڈیالہ جیل میں اسلام آباد سے متعلق تقریباً 3300 قیدی موجود ہیں، جنہیں مرحلہ وار نئی جیل میں منتقل کرنے کا منصوبہ ہے۔
وزیر داخلہ نے اسلام آباد ماڈل جیل کے دورے کے دوران تعمیراتی اور انتظامی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ حکام نے انہیں سکیورٹی، رہائش، طبی سہولت، ملاقات کے انتظامات اور دیگر بنیادی انفراسٹرکچر کے بارے میں بریفنگ دی۔ پہلے مرحلے میں محدود تعداد کی منتقلی کا مقصد نئی سہولت کے آپریشنز کو بتدریج فعال کرنا بتایا گیا ہے۔
اسلام آباد کے اپنے مکمل فعال جیل کمپلیکس کی عدم موجودگی کے باعث وفاقی دارالحکومت کے زیر سماعت اور سزا یافتہ قیدی طویل عرصے سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں رکھے جاتے رہے ہیں۔ اس انتظام سے پنجاب کی جیل پر اضافی بوجھ پڑتا ہے اور اسلام آباد پولیس، عدالتوں اور جیل حکام کو قیدیوں کی نقل و حرکت کے لیے بین الصوبائی انتظامات کرنا پڑتے ہیں۔
نئی ماڈل جیل کے فعال ہونے سے اسلام آباد کے قیدیوں کو وفاقی حدود میں رکھنے اور عدالتوں تک منتقلی کے عمل کو نسبتاً آسان بنانے کی توقع ہے۔ تاہم قیدیوں کی منتقلی کے ساتھ سکیورٹی، عملے کی دستیابی، طبی سہولیات، قیدیوں کے حقوق اور خاندانوں کی ملاقاتوں کے مؤثر نظام کو برقرار رکھنا بھی ضروری ہوگا۔
محسن نقوی کا 1500 قیدیوں کا اعلان پہلے مرحلے سے متعلق ہے، اس لیے اسے اڈیالہ میں موجود تمام اسلام آباد قیدیوں کی فوری منتقلی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ باقی قیدیوں کی منتقلی جیل کی گنجائش اور انتظامی تیاری کے مطابق بعد کے مراحل میں متوقع ہے۔ منصوبے کی مکمل آپریشنل حیثیت اور حتمی ٹائم لائن متعلقہ حکام کی آئندہ پیش رفت سے واضح ہوگی۔

