کوئٹہ: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ بلوچستان کے اضلاع کچھی اور خاران میں دو الگ انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 17 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ ایک فوجی اہلکار سپاہی حکمت اللہ شہید ہوگئے۔ فوجی بیان کے مطابق دونوں کارروائیاں یکم نومبر کو دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق اطلاعات پر کی گئیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پہلی کارروائی ضلع کچھی کے علاقے سنی میں کی گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ مسلح افراد شہر میں سڑک بند کرنے کی کوشش کر رہے تھے جسے سکیورٹی فورسز کی کارروائی سے ناکام بنایا گیا۔ فائرنگ کے تبادلے کے بعد 10 دہشت گرد مارے گئے اور ان کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔

فوجی بیان کے مطابق دوسری کارروائی ضلع خاران میں ایک مبینہ دہشت گرد ٹھکانے کے خلاف ہوئی۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ شدید فائرنگ کے تبادلے میں مزید سات دہشت گرد مارے گئے اور وہاں سے بھی ہتھیار اور گولہ بارود برآمد ہوا۔ اسی کارروائی کے دوران 25 سالہ سپاہی حکمت اللہ جان سے گئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ان کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع کرک سے تھا۔

بیان میں ہلاک ہونے والے افراد کو ریاست کی جانب سے استعمال کی جانے والی اصطلاح 'فتنہ الہندوستان' سے منسلک قرار دیا گیا اور بھارت کی سرپرستی کا الزام عائد کیا گیا۔ یہ الزام پاکستانی فوجی حکام کا مؤقف ہے؛ دستیاب رپورٹ میں اس دعوے کی آزادانہ تصدیق پیش نہیں کی گئی۔ پاکستان حالیہ عرصے میں بلوچستان میں سرگرم بعض مسلح گروہوں کے لیے یہ اصطلاح استعمال کرتا رہا ہے اور بھارت پر عدم استحکام پیدا کرنے میں کردار کا الزام لگاتا ہے، جبکہ ایسے الزامات پر نئی دہلی عمومی طور پر تردید کرتا رہا ہے۔

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ دونوں علاقوں میں مزید ممکنہ مسلح عناصر کی تلاش کے لیے کلیئرنس یا سینیٹائزیشن کارروائیاں جاری ہیں۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کارروائیوں کے دوران کسی مشتبہ شخص کو گرفتار بھی کیا گیا یا نہیں، اور نہ ہی ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت کی مکمل تفصیل جاری کی گئی ہے۔

بلوچستان میں حالیہ برسوں کے دوران سکیورٹی فورسز، سرکاری تنصیبات اور شہری اہداف پر حملوں کے بعد انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ موجودہ کارروائیوں کے بارے میں بنیادی معلومات آئی ایس پی آر کے سرکاری بیان پر مبنی ہیں۔ ہلاکتوں، برآمد اسلحے اور مبینہ وابستگی سے متعلق تفصیلات اسی سرکاری مؤقف کے طور پر رپورٹ کی جا رہی ہیں اور آزاد ذرائع سے فوری طور پر ان کی مکمل تصدیق دستیاب نہیں تھی۔