گوادر: بلوچستان کے وزیر منصوبہ بندی میر ظہور احمد بلیدی نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کی کارکردگی سے متعلق حالیہ ریمارکس کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔ ان کا یہ بیان وزیراعلیٰ کی جانب سے بلوچستان اسمبلی میں بعض سڑک منصوبوں اور ایف ڈبلیو او کی کارکردگی پر عدم اطمینان کے اظہار کے ایک ہفتے سے زائد عرصے بعد سامنے آیا ہے۔
ڈان کے مطابق اکتوبر کے آخر میں بلوچستان اسمبلی میں نیشنل پارٹی کے رہنما اور سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے سڑک منصوبوں کے ٹھیکوں کے طریقہ کار پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ ایف ڈبلیو او اپنی ترجیحات کے مطابق کام آگے دیتی ہے۔ جواب میں وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے بعض منصوبوں کی کارکردگی پر عدم اطمینان ظاہر کیا اور کہا تھا کہ ان کے اپنے علاقے میں تعمیر ہونے والی بعض سڑکیں بھی خراب ہو چکی ہیں۔
وزیراعلیٰ نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا تھا کہ ادارے کو معیاری کام کی توقع پر منصوبے دیے جاتے ہیں، لیکن بعض صورتوں میں چھوٹے ذیلی ٹھیکیداروں کو کام دینے سے معیار متاثر ہوا۔ یہ تنقید مخصوص کارکردگی اور منصوبوں سے متعلق تھی؛ اس کے بعد ظہور بلیدی نے تربت پریس کلب میں ایک غیر رسمی مکالمے کے دوران کہا کہ وزیراعلیٰ کے ریمارکس کو مجموعی طور پر ایف ڈبلیو او کے خلاف موقف کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔
بلیدی نے بلوچستان میں شاہراہوں کی تعمیر کے لیے ایف ڈبلیو او کی خدمات کو اہم قرار دیا اور ہوشاب، پنجگور اور سوراب کو ملانے والی این-85 شاہراہ کی تعمیر کے دوران جانیں گنوانے والے اہلکاروں کا حوالہ دیا۔ انہوں نے صوبائی حکومت کی ترجیحات میں انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت اور نوجوانوں کے روزگار کو شامل کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھانا حکومت کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔
صوبائی وزیر نے بعض سیاسی مخالفین پر ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں منفی بیانیہ پیدا کرنے کا الزام بھی لگایا اور حب انڈسٹریل زون، گوادر پورٹ، میرانی ڈیم، گشکور ڈیم اور جنوبی بلوچستان پیکیج کا ذکر کیا۔ یہ سیاسی الزام ان کا مؤقف ہے اور اسے کسی آزاد تحقیق کا نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
اس بحث کا وسیع تر پس منظر بلوچستان میں بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کی رفتار، معیار، ٹھیکوں اور سکیورٹی کے مسائل ہیں۔ اگست میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں بھی بلوچستان سوشیو اکنامک ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت بعض اہم سڑک منصوبوں کی سست پیش رفت پر عدم اطمینان ظاہر کیا گیا تھا۔ موجودہ وضاحت سے صوبائی حکومت نے ایف ڈبلیو او کے مجموعی کردار اور مخصوص منصوبوں پر تنقید کے درمیان فرق واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔
