اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 77 میں ضمنی انتخاب سے قبل وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کی جانب سے انتخابی ضابطہ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزی کا نوٹس لے لیا ہے۔ کمیشن کے مطابق میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وفاقی وزیر نے حلقے میں امیدوار رشید بشیر ورک کی انتخابی مہم کے ایک پروگرام سے خطاب کیا۔ الیکشن کمیشن کی کارروائی اس مرحلے پر مبینہ خلاف ورزی کے نوٹس سے متعلق ہے؛ اسے کسی حتمی جرم یا خلاف ورزی کے ثابت ہونے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔

انتخابی ضابطہ اخلاق کا مقصد ضمنی انتخابات کے دوران سرکاری عہدوں، وسائل اور اثر و رسوخ کے ایسے استعمال کو محدود کرنا ہے جو امیدواروں کے درمیان مساوی انتخابی ماحول متاثر کر سکتا ہو۔ الیکشن کمیشن انتخابی شیڈول کے دوران امیدواروں، سیاسی جماعتوں اور سرکاری عہدے داروں کے طرز عمل کی نگرانی کے لیے ضابطے اور متعلقہ قانونی اختیارات استعمال کرتا ہے۔ کسی شکایت یا میڈیا رپورٹ پر نوٹس کے بعد متعلقہ فریق کو وضاحت کا موقع دیا جا سکتا ہے اور دستیاب مواد کی بنیاد پر مزید حکم جاری کیا جاتا ہے۔

این اے 77 کا ضمنی انتخاب سیاسی اہمیت رکھتا ہے اور اسی لیے حلقے میں انتخابی سرگرمیوں کی نگرانی بھی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ کمیشن کے نوٹس میں بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا وفاقی وزیر کی مبینہ شرکت انتخابی قواعد کی ان پابندیوں کے دائرے میں آتی ہے جو عوامی عہدہ رکھنے والوں کی انتخابی مہم میں سرگرمی سے متعلق ہیں۔ حتمی قانونی نتیجہ متعلقہ انتخابی حکام کی جانچ، جواب اور دستیاب شواہد کے بعد ہی سامنے آئے گا۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے ضابطہ اخلاق نافذ کرنے کی کارروائیاں انتخابی عمل کی ساکھ اور امیدواروں کے لیے یکساں مواقع سے جڑی ہوتی ہیں۔ اس معاملے میں بھی ضروری ہے کہ میڈیا رپورٹ، سرکاری ریکارڈ اور متعلقہ فریق کے مؤقف میں فرق برقرار رکھا جائے۔ فی الحال مصدقہ پیش رفت یہ ہے کہ کمیشن نے مبینہ خلاف ورزی کا نوٹس لیا ہے؛ کسی سزا، جرمانے یا نااہلی کا حتمی فیصلہ رپورٹ نہیں ہوا۔ آئندہ کارروائی میں اگر کوئی باضابطہ حکم یا وضاحت سامنے آتی ہے تو اسی سے یہ طے ہوگا کہ کمیشن نے ضابطے کی خلاف ورزی ثابت سمجھی یا معاملہ نمٹا دیا۔