اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 77 میں ضمنی انتخاب سے قبل وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کی انتخابی سرگرمی سے متعلق مبینہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا نوٹس لیا ہے۔ ڈان کی 7 نومبر کی رپورٹ کے مطابق انتخابی نگران ادارے نے معاملے کو انتخابی ضابطہ اخلاق کے تناظر میں اٹھایا ہے۔ یہ کارروائی کسی حتمی خلاف ورزی کے تعین کے مترادف نہیں بلکہ مبینہ خلاف ورزی پر انتخابی حکام کی جانب سے نوٹس لینے کا مرحلہ ہے۔

ضمنی انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن امیدواروں، سیاسی جماعتوں اور سرکاری عہدہ رکھنے والے افراد کے لیے مقررہ قواعد پر عمل درآمد کی نگرانی کرتا ہے۔ این اے 77 سے متعلق اس پیش رفت میں بنیادی نکتہ یہ ہے کہ وفاقی وزیر کی انتخابی مہم میں شرکت یا سرگرمی کو متعلقہ ضابطے کی روشنی میں دیکھا جا رہا ہے۔ دستیاب رپورٹ میں معاملے کو مبینہ خلاف ورزی کے طور پر بیان کیا گیا ہے، اس لیے اسے ثابت شدہ خلاف ورزی یا سزا قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

الیکشن کمیشن کی کارروائی انتخابی عمل میں سرکاری اثرورسوخ، عہدے کے استعمال اور امیدواروں کے لیے مساوی مواقع سے متعلق قواعد کے نفاذ کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ انتخابی ضابطہ اخلاق کا مقصد انتخابی مقابلے کے لیے یکساں ماحول برقرار رکھنا اور ایسے اقدامات کی نگرانی کرنا ہے جو انتخابی عمل کی غیر جانبداری پر سوال اٹھا سکتے ہوں۔

اس معاملے میں آئندہ مرحلہ متعلقہ انتخابی حکام کی کارروائی، فریق کا موقف اور کمیشن کی جانب سے کسی باضابطہ فیصلے یا ہدایت کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔ جب تک ایسی کارروائی مکمل نہیں ہوتی، نوٹس کو ابتدائی انتظامی و انتخابی اقدام ہی سمجھا جائے گا۔ رپورٹ میں سامنے آنے والی معلومات کے مطابق معاملہ این اے 77 کے ضمنی انتخاب اور اس سے پہلے جاری انتخابی سرگرمیوں سے براہ راست متعلق ہے۔