اسلام آباد: پاکستان انفارمیشن کمیشن نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کو پارلیمانی قائمہ کمیٹیوں اور ذیلی کمیٹیوں کے مالی اخراجات، سفری الاؤنس، مراعات اور دیگر ادائیگیوں سے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ کمیشن کا حکم صحافی سعدیہ مظہر کی اپیل پر جاری ہوا، جنہوں نے حقِ رسائی معلومات قانون 2017 کے تحت پارلیمانی کمیٹیوں کے کام اور اخراجات کے بارے میں ریکارڈ طلب کیا تھا۔

دستیاب حکم کے مطابق درخواست میں جنوری 2025 سے قائمہ کمیٹیوں اور ذیلی کمیٹیوں کی فہرست، ان کے اجلاسوں کی تعداد، اجلاسوں پر ہونے والے مجموعی اخراجات، ارکان اور چیئرپرسنز کو ادا کیے گئے سفری الاؤنس، مراعات اور دیگر ادائیگیوں کی تفصیل مانگی گئی تھی۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے فراہم کردہ جواب میں صرف کمیٹیوں کی فہرست سے متعلق سوال کا مناسب جواب ملا جبکہ باقی 13 نکات کی مطلوبہ وضاحت نہیں دی گئی۔

پاکستان انفارمیشن کمیشن نے قومی اسمبلی کی ویب سائٹ اور سیکرٹریٹ کے فراہم کردہ مواد کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ اگرچہ پارلیمانی معلومات کا ایک حصہ آن لائن موجود ہے، لیکن سرکاری ادارہ معلومات کی باقاعدہ درخواست میں پوچھے گئے مخصوص سوالات کا واضح اور براہِ راست جواب دینے کا پابند ہے۔ کمیشن نے قومی اسمبلی کے سیکرٹری کو سوال نمبر 2 سے 14 تک مکمل اور مخصوص معلومات 10 دن کے اندر فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔

کمیشن نے عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے 19 نومبر کی تاریخ بھی مقرر کی ہے۔ اس کارروائی میں دیکھا جائے گا کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے حکم کے مطابق مطلوبہ ریکارڈ فراہم کیا یا نہیں۔ حکم میں حقِ رسائی معلومات قانون کی ان شقوں کی طرف بھی توجہ دلائی گئی جن کے تحت شہری سرکاری اداروں سے ایسے ریکارڈ کی درخواست کر سکتے ہیں جس کی مناسب شناخت ممکن ہو۔

یہ حکم پارلیمانی مالی شفافیت کے تناظر میں اہم ہے کیونکہ درخواست کا تعلق منتخب نمائندوں کی کمیٹی سرگرمیوں پر عوامی وسائل کے استعمال سے ہے۔ تاہم کمیشن نے اس مرحلے پر اخراجات کی کسی مخصوص رقم یا کسی رکن کے طرزِ عمل کے بارے میں کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا؛ اس کا حکم بنیادی طور پر مطلوبہ معلومات کی فراہمی اور قانون کے تحت سرکاری ادارے کی ذمہ داری سے متعلق ہے۔