اسلام آباد: سپریم کورٹ نے عدم پیروی کی بنیاد پر خارج ہونے والی دو سول نظرثانی درخواستیں بحال کرتے ہوئے وکلا اور فریقین کو مقدمات کی پیروی میں مستعد رہنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے لاہور ہائی کورٹ کے 23 فروری 2026 کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواستوں کو اپیلوں میں تبدیل کر کے منظور کیا۔ بینچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن بھی شامل تھے۔
عدالت کے آٹھ صفحات پر مشتمل فیصلے کے مطابق معاملہ صفدر علی بٹ کی درخواستوں سے متعلق تھا جو 2 فروری 2026 کو عدم پیروی پر خارج ہو گئی تھیں۔ درخواست گزار کے وکیل شاہد عظیم باجوہ عدالت میں موجود تھے لیکن کورونا وائرس کی بیماری اور کمرہ عدالت میں رش کے باعث بینچ تک بروقت نہیں پہنچ سکے۔ وکیل کے پہنچنے تک مقدمات خارج ہو چکے تھے۔ اگلے ہی روز بحالی کی درخواستیں دائر کی گئیں، تاہم لاہور ہائی کورٹ نے 23 فروری کو انہیں بھی مسترد کر دیا تھا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ وکیل پر لازم ہے کہ وہ مقدمے کی تاریخ، کاز لسٹ اور متعلقہ بینچ کی نگرانی کرے اور مؤکل کے مفاد کے تحفظ کے لیے مناسب انتظامات رکھے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ مؤکل کو مکمل طور پر وکیل پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے مقدمے کی پیش رفت سے باخبر رہنا چاہیے۔ اگر ایک وکیل کو مختلف عدالتوں میں بیک وقت پیشی درپیش ہو تو متبادل انتظام، ہولڈنگ بریف یا پیشگی التوا کی درخواست جیسے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ عدالت نے یہ اصول بھی دہرایا کہ عدالتی نظام کا مقصد تنازعات کو محض تکنیکی بنیادوں پر ختم کرنا نہیں بلکہ جہاں ممکن ہو انہیں میرٹ پر طے کرنا ہے۔ فیصلے کے مطابق اگر بحالی کی درخواست مقررہ مدت میں فوری طور پر دائر کی جائے اور غیرحاضری کی معقول وجہ قابلِ اطمینان انداز میں بیان ہو تو عدالت انصاف کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے بحالی کی طرف مائل ہو سکتی ہے۔ طبی ہنگامی حالت یا جسمانی مجبوری جیسی غیرمتوقع صورتحال اس جائزے میں اہم ہو سکتی ہے۔
سپریم کورٹ نے تاہم یہ بھی واضح کیا کہ نرمی خودکار حق نہیں ہے۔ عدالت کو حقیقی مجبوری اور دانستہ غفلت میں فرق کرنا ہوگا تاکہ ایک طرف مؤکل وکیل کی حقیقی غلطی یا ناگزیر صورتحال کی وجہ سے غیرضروری نقصان سے بچ سکے اور دوسری طرف مسلسل عدم دلچسپی یا کارروائی کو طول دینے کے رویے کی حوصلہ افزائی نہ ہو۔
فیصلہ وکالت کی پیشہ ورانہ ذمہ داری اور مقدمات کی بحالی کے عدالتی اختیار، دونوں کو متوازن انداز میں بیان کرتا ہے۔ عدالت نے زیرِ سماعت مقدمے میں دستیاب حالات کو بحالی کے لیے کافی سمجھا اور دو سول نظرثانی درخواستوں کو دوبارہ عدالتی غور کے لیے بحال کر دیا۔
