اسلام آباد: سپریم کورٹ نے بجلی کی چوری، غیر مجاز فروخت اور منظور شدہ نظام سے ہٹ کر نجی طور پر بجلی فراہم کرنے کے معاملات میں ملوث افراد کے کردار کی باریک بینی سے جانچ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ واپڈا یا متعلقہ بجلی تقسیم کار کمپنی اور اس کے اہلکاروں کے علم کے بغیر غیر مجاز بجلی کی فراہمی کا سلسلہ کیسے چل سکتا ہے۔
یہ مشاہدات جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس عرفان سعادت خان پر مشتمل دو رکنی بینچ کی جانب سے ایک ضمانت منسوخی کی درخواست کی سماعت کے دوران سامنے آئے۔ مقدمے کا پس منظر ایک ایسے واقعے سے متعلق تھا جس میں بجلی کی تار ٹوٹنے کے بعد ایک شخص کو کرنٹ لگا تھا۔ چھ صفحات پر مشتمل عدالتی حکم میں جسٹس محمد علی مظہر نے موجودہ طریقہ کار اور متعلقہ اداروں کی نگرانی کے کردار کا تفصیلی جائزہ لینے کی ضرورت بیان کی۔
عدالت کے مطابق اگر بجلی باقاعدہ اور مجاز چینلز کے بجائے غیر قانونی یا نجی انتظام کے ذریعے فراہم کی جا رہی ہو تو یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس میں کن افراد کی عملی شمولیت، سہولت کاری یا غفلت شامل تھی۔ عدالتی آبزرویشن کا محور کسی پورے ادارے پر عمومی الزام عائد کرنا نہیں بلکہ ذمہ داری کو شواہد کی بنیاد پر مخصوص افراد اور اقدامات سے جوڑنا ہے۔
بجلی چوری اور غیر مجاز کنکشنز پاکستان کے پاور سیکٹر کے لیے طویل عرصے سے مالی اور حفاظتی مسئلہ رہے ہیں۔ غیر معیاری تاروں، غیر قانونی کنکشنز اور نجی تقسیم کے انتظامات سے نہ صرف محصولات کا نقصان ہو سکتا ہے بلکہ انسانی جان کو بھی خطرہ لاحق رہتا ہے۔ زیر سماعت کیس میں بھی بجلی کی تار ٹوٹنے اور کرنٹ لگنے کا واقعہ عدالتی جانچ کا بنیادی پس منظر بنا۔
سپریم کورٹ کے تازہ حکم سے متعلقہ تفتیشی اور بجلی فراہم کرنے والے اداروں پر یہ ذمہ داری مزید نمایاں ہوتی ہے کہ وہ محض غیر مجاز کنکشن کی موجودگی تک محدود نہ رہیں بلکہ یہ بھی معلوم کریں کہ ایسا نظام کس طرح قائم ہوا، کتنے عرصے تک جاری رہا اور متعلقہ اہلکاروں کو اس کا علم تھا یا نہیں۔ حتمی ذمہ داری اور کسی فرد کے خلاف قانونی نتیجہ متعلقہ شواہد، تفتیش اور عدالتی کارروائی سے طے ہوگا؛ عدالت کے موجودہ مشاہدات کو کسی شخص کی حتمی مجرمانہ ذمہ داری کا فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
