لاہور ہائیکورٹ نے نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کی ٹیوشن فیس کو ضابطے میں رکھنے کے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے قانونی اختیار کو برقرار رکھتے ہوئے دو اداروں کو طلبہ سے وصول کی گئی اضافی رقم مقررہ مدت میں ایڈجسٹ یا واپس کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق جسٹس خالد اسحاق کے تفصیلی فیصلے میں نجی اداروں کی تین درخواستیں مسترد جبکہ طلبہ اور ان کے سرپرستوں کی 12 متعلقہ درخواستیں منظور کی گئیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ پی ایم ڈی سی ایکٹ 2022 کی متعلقہ دفعات کو مجموعی طور پر پڑھنے سے کونسل کو نجی میڈیکل اور ڈینٹل اداروں کی مجوزہ فیس، مالی گوشواروں اور مالی جواز کا جائزہ لینے کا اختیار حاصل ہے۔ فیصلے کے مطابق یہ عمل محض ریکارڈ رکھنے کی رسمی کارروائی نہیں، کیونکہ اگر ریگولیٹر غیر جواز شدہ فیس پر سوال نہ اٹھا سکے تو مالی تفصیلات جمع کرانے کی قانونی شرط بے معنی ہو جائے گی۔
عدالت نے نجی اداروں کا یہ مؤقف بھی مسترد کیا کہ فیس کی حد ان کے کاروبار کے بنیادی حق میں غیر قانونی مداخلت ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ کاروبار کی آزادی مطلق نہیں اور عوامی مفاد میں معقول ضابطہ کاری کی جا سکتی ہے، خصوصاً طبی تعلیم جیسے شعبے میں جس کا تعلق براہ راست صحت عامہ، پیشہ ورانہ معیار اور مستقبل کے ڈاکٹروں کی تربیت سے ہے۔ ساتھ ہی عدالت نے واضح کیا کہ ریگولیٹر کو اداروں کے جائز اخراجات اور تعلیمی معیار برقرار رکھنے کے لیے درکار وسائل کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
فیصلے میں یونیورسٹی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج فیصل آباد اور ایف ایم ایچ کالج آف میڈیسن اینڈ ڈینٹسٹری لاہور سے متعلق مالی اعداد و شمار اور فیس جسٹیفکیشن کمیٹی کی کارروائی کا بھی حوالہ دیا گیا۔ کمیٹی کے ریکارڈ کے مطابق دونوں اداروں میں مقررہ حد سے زائد وصولی کی نشاندہی ہوئی تھی۔ عدالت نے متعلقہ اداروں اور پی ایم ڈی سی کو قابل اطلاق نوٹیفکیشنز پر عمل کرتے ہوئے طلبہ کے دعووں کا نتیجہ 30 اکتوبر سے 30 ورکنگ دنوں کے اندر دینے کی ہدایت کی۔
عدالت نے ان شکایات کا بھی نوٹس لیا جن میں بعض طلبہ نے قانونی حقوق کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کے بعد مبینہ انتقامی رویے کی بات کی تھی۔ فیصلے میں اداروں کو درخواست گزار طلبہ کے خلاف کسی امتیازی یا نقصان دہ سلوک سے باز رہنے کا حکم دیا گیا اور واضح کیا گیا کہ غیر قانونی رویے کی صورت میں طلبہ توہین عدالت کی کارروائی کے لیے رجوع کر سکتے ہیں۔
یہ فیصلہ تمام نجی میڈیکل کالجز کے لیے یکساں رقم کی نئی فیس مقرر کرنے کا حکم نہیں بلکہ پی ایم ڈی سی کے ضابطہ جاتی اختیار اور زیر سماعت مخصوص نوٹیفکیشنز کی قانونی حیثیت سے متعلق ہے۔ مختلف اداروں کے لیے قابل اطلاق فیس ان کے مالی جواز اور ریگولیٹری فیصلوں کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔ فیصلے کا فوری عملی اثر متعلقہ طلبہ کے اضافی فیس کی ایڈجسٹمنٹ یا واپسی کے دعووں پر پڑے گا۔
