کوئٹہ: بلوچستان کے اضلاع پنجگور اور کچھی میں دو الگ انٹیلی جنس بنیادوں پر سکیورٹی کارروائیوں کے دوران سات دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں۔ 18 ستمبر کو سرکاری نشریاتی ادارے ریڈیو پاکستان نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے ان کارروائیوں کی اطلاع دی، جبکہ ڈان نے بھی انہی تفصیلات کو رپورٹ کیا۔
رپورٹ کے مطابق پنجگور ضلع کے فتح علی علاقے میں ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا جہاں فائرنگ کے تبادلے میں پانچ مبینہ دہشت گرد مارے گئے۔ سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ ہلاک ہونے والے افراد کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔ دستیاب رپورٹ میں ہلاک افراد کے نام، تنظیمی وابستگی یا ان کے خلاف مخصوص مقدمات کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔
ایک دوسری کارروائی کچھی ضلع کے ڈھاڈر علاقے میں کی گئی جہاں دو مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق آپریشن کے دوران مزید کچھ افراد زخمی بھی ہوئے، تاہم ان کی تعداد یا حالت کے بارے میں فوری تفصیل سامنے نہیں آئی۔ دونوں کارروائیوں کے حوالے سے آزاد ذرائع سے الگ تصدیق دستیاب نہیں، اس لیے ہلاکتوں اور برآمدگی سے متعلق تفصیلات سرکاری ذرائع کے مؤقف کے طور پر بیان کی جا رہی ہیں۔
یہ کارروائیاں ایسے وقت ہوئی ہیں جب بلوچستان میں حالیہ ہفتوں کے دوران دہشت گردی کے متعدد واقعات اور سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائیاں رپورٹ ہوئی ہیں۔ ڈان کے مطابق اگست میں صوبے میں دہشت گرد حملوں کی تعداد جولائی کے مقابلے میں بڑھی، اور ستمبر کے آغاز سے مستونگ، قلات، سبی، خاران، واشک، آواران اور دیگر علاقوں میں بھی انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن کیے گئے۔
حالیہ کارروائیوں میں حکومت اور فوجی حکام بارہا یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ صوبے میں مسلح گروہوں کے خلاف انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن جاری رکھے جائیں گے۔ دوسری جانب بلوچستان میں امن و امان کی صورت حال سے متعلق انسانی جانوں کے تحفظ، گرفتار افراد کے قانونی حقوق اور کارروائیوں کی آزادانہ نگرانی کے سوالات بھی اہم رہتے ہیں۔ موجودہ واقعے میں کسی گرفتاری یا شہری جانی نقصان کی اطلاع دستیاب رپورٹوں میں نہیں دی گئی۔
پنجگور اور ڈھاڈر کے واقعات ایک ہی دن رپورٹ ہوئے لیکن الگ مقامات پر الگ آپریشن تھے۔ مجموعی طور پر سرکاری ذرائع نے سات ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ مزید شناختی یا تفتیشی تفصیلات سامنے آنے کی صورت میں واقعے کی نوعیت اور مبینہ نیٹ ورکس کے بارے میں زیادہ واضح تصویر سامنے آ سکے گی۔
