لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی اس ہدایت کی معطلی میں توسیع کردی ہے جس کے تحت پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم افغان طلبہ کو افغانستان واپس جانے کا کہا گیا تھا۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق جسٹس خالد اسحاق نے مقدمے کی سماعت کی، جہاں پی ایم ڈی سی اور یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وکلا نے تحریری جواب جمع کرانے کے لیے مزید مہلت طلب کی۔ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔
اس سے پہلے عدالت نے پی ایم ڈی سی، وزارت صحت اور متعلقہ میڈیکل یونیورسٹیوں اور کالجوں کے وائس چانسلرز سمیت فریقین سے جواب طلب کیا تھا۔ تازہ سماعت میں پانچ افغان میڈیکل گریجویٹس کی درخواست بھی زیر غور آئی، جنہوں نے پی ایم ڈی سی رجسٹریشن اور لازمی ہاؤس جاب کے معاملے میں عدالتی مداخلت مانگی ہے۔ درخواست گزاروں کے مطابق انہوں نے 2021 سے 2026 کے دوران ہائر ایجوکیشن کمیشن کے زیر انتظام علامہ اقبال اسکالرشپ پروگرام کے تحت پانچ سالہ ایم بی بی ایس مکمل کیا، لیکن ان کی رجسٹریشن درخواستیں کئی ماہ سے زیر التوا ہیں۔
طلبہ کا مؤقف ہے کہ پی ایم ڈی سی رجسٹریشن کے بغیر وہ طب کی عملی تربیت کے لیے درکار ایک سالہ ہاؤس جاب شروع نہیں کرسکتے۔ انہوں نے عدالت میں یہ بھی استدلال کیا کہ 2025 کے متعلقہ ضوابط کے تحت گریجویٹس کو منسلک تدریسی اسپتال میں ہاؤس جاب کی سہولت ملنی چاہیے اور پی ایم ڈی سی کے 2022 کے قانون میں کونسل کو ملک بدری کا اختیار نہیں دیا گیا۔ یہ نکات درخواست گزاروں کے قانونی مؤقف کا حصہ ہیں اور عدالت نے ابھی ان کے حق یا مخالفت میں حتمی فیصلہ نہیں دیا۔
عدالت نے درخواست گزاروں کے وکیل سے یہ بھی کہا کہ وہ موجودہ حکومتی پالیسی کے تناظر میں پاکستان میں ایک سالہ ہاؤس جاب جاری رکھنے کے قانونی حق اور درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دیں۔ عدالت نے نئی درخواست کو 10 ستمبر کو دائر ہونے والی متعلقہ درخواستوں کے ساتھ یکجا کردیا۔
پی ایم ڈی سی نے یکم ستمبر کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جس میں افغان میڈیکل طلبہ کو افغانستان واپس جانے کی ہدایت دی گئی اور موجودہ تعلیمی سیشن میں افغان طلبہ کو داخلہ یا پلیسمنٹ دینے سے اداروں کو روکا گیا تھا۔ اس کے خلاف لاہور کے مختلف اداروں میں زیر تعلیم افغان طلبہ نے عدالت سے رجوع کیا۔ موجودہ حکم عبوری نوعیت کا ہے؛ پی ایم ڈی سی کی ہدایت فی الحال معطل ہے اور مقدمے کے بنیادی قانونی سوالات پر حتمی فیصلہ بعد کی سماعتوں میں ہونا باقی ہے۔
