خیبر پختونخوا میں 15 سے 17 ستمبر کے دوران سکیورٹی فورسز کی الگ الگ کارروائیوں میں 10 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ ایک دیسی ساختہ بم کے دھماکے میں چھ فوجی اہلکار شہید ہوگئے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے بتایا کہ کارروائیاں شمالی وزیرستان اور ہنگو میں کی گئیں اور مارے جانے والے افراد سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بنیاد پر آپریشن کیا گیا۔ سکیورٹی فورسز نے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے میں چھ مبینہ دہشت گرد مارے گئے۔ فوجی بیان میں ان افراد کے لیے ریاست کی جانب سے استعمال کی جانے والی اصطلاح ’فتنہ الخوارج‘ استعمال کی گئی، جو کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے منسلک عناصر کے لیے سرکاری بیانات میں استعمال ہوتی ہے۔
ایک دوسری جھڑپ ہنگو میں ہوئی جہاں آئی ایس پی آر کے مطابق چار دہشت گرد مارے گئے۔ فوجی بیان میں کہا گیا کہ ہلاک ہونے والے افراد علاقے میں مختلف دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ یہ دعویٰ آئی ایس پی آر سے منسوب ہے اور رپورٹ میں اسے آزاد عدالتی نتیجے کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا۔
بیان کے مطابق 17 ستمبر کو سکیورٹی فورسز کے ایک قافلے کو آئی ای ڈی سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں چھ فوجی اہلکار شہید ہوئے۔ اس واقعے کے مقام اور حملے کی ذمہ داری کے بارے میں دستیاب رپورٹ میں مزید تفصیل نہیں دی گئی۔ سکیورٹی فورسز نے کارروائیوں کے بعد علاقے میں مزید خطرات کے خاتمے کے لیے اقدامات جاری رکھے۔
خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں حالیہ عرصے میں عسکریت پسند حملوں اور جوابی سکیورٹی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ شمالی وزیرستان طویل عرصے سے دہشت گردی اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں سے متاثر علاقوں میں شامل ہے، جبکہ ہنگو اور ملحقہ اضلاع میں بھی سکیورٹی فورسز اور پولیس کو خطرات کا سامنا رہا ہے۔ تازہ کارروائیوں کے اعداد و شمار آئی ایس پی آر کے سرکاری بیان پر مبنی ہیں؛ مارے گئے افراد کی شناخت یا ان کے خلاف مخصوص مقدمات کی تفصیلات رپورٹ میں جاری نہیں کی گئیں۔

