کوہاٹ میں جمعہ کو پولیس کی ایک تنصیب پر خودکش حملے اور اس کے بعد مسلح حملہ آوروں کی فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 16 افراد جاں بحق اور 57 زخمی ہوگئے۔ رائٹرز کے مطابق خیبر پختونخوا پولیس کے سربراہ ذوالفقار حمید نے بتایا کہ بارود سے بھری ایک گاڑی پولیس کمپاؤنڈ کی بیرونی دیوار سے ٹکرائی، جس وقت اندر واقع مسجد میں پولیس اہلکار اور ان کے اہل خانہ نمازِ جمعہ ادا کر رہے تھے۔ دھماکے کے بعد مسلح افراد نے فائرنگ شروع کردی اور سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ مقابلہ ہوا۔
پولیس کے مطابق جاں بحق افراد میں پانچ پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔ حکام نے بتایا کہ حملے میں شریک ساتوں حملہ آور دھماکے اور بعد ازاں ہونے والی فائرنگ میں مارے گئے۔ امدادی کارکنوں کی جانب سے سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں عمارت کی دیوار کو شدید نقصان پہنچا اور لوگوں کو ملبے سے زخمیوں کو نکالتے دیکھا گیا۔ وزارت داخلہ نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات دہشت گردی کے خلاف قومی عزم کو کمزور نہیں کرسکتے۔
حملے کی ذمہ داری کے بارے میں ابتدائی اطلاعات مختلف رہیں۔ رائٹرز کے مطابق فوری طور پر کسی گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی تھی اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے واقعے سے لاتعلقی ظاہر کی۔ بعد کی مقامی رپورٹس میں ایک دوسرے عسکریت پسند اتحاد کی جانب سے دعویٰ سامنے آیا، اس لیے ذمہ داری سے متعلق دعوؤں کو حتمی سرکاری تصدیق سے الگ سمجھنا ضروری ہے۔
خیبر پختونخوا میں حالیہ مہینوں کے دوران پولیس اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے والے حملوں میں اضافہ رپورٹ ہوا ہے۔ پاکستانی حکام متعدد مواقع پر افغانستان میں موجود مبینہ پناہ گاہوں کو سرحد پار دہشت گردی سے جوڑتے رہے ہیں، جبکہ کابل میں طالبان حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔ کوہاٹ واقعے کے بعد پولیس نے علاقے میں کلیئرنس اور تحقیقات کا عمل جاری رکھا اور زخمیوں کو مقامی طبی مراکز منتقل کیا گیا۔ چونکہ ابتدائی گھنٹوں میں ہلاکتوں اور حملہ آوروں کی تعداد سے متعلق اعداد بدلتے رہے، اس رپورٹ میں رائٹرز کی تازہ دستیاب تصدیق شدہ تعداد کو بنیاد بنایا گیا ہے۔

