اسلام آباد: پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی نرسری میں 26 اگست کو لگنے والی آگ میں ابتدائی طور پر بچ جانے والی واحد نومولود بچی بھی انتقال کر گئی ہے، جس کے بعد اس سانحے میں جاں بحق بچوں کی مجموعی تعداد 15 ہو گئی۔ پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد سلمان نے 18 ستمبر کو بچی کے انتقال کی تصدیق کی۔
آگ کے وقت نرسری میں 15 نومولود موجود تھے۔ حادثے میں 14 بچے موقع پر یا فوری بعد جاں بحق ہوگئے تھے، جبکہ ایک بچی کو نرس رضیہ نورین نے آگ سے نکال کر بچایا تھا۔ اسپتال ذرائع کے مطابق بچی قبل از وقت پیدا ہوئی تھی اور مسلسل طبی پیچیدگیوں کا سامنا کر رہی تھی۔ بعد ازاں اس کی حالت تشویشناک رہی اور کئی ہفتوں کے علاج کے باوجود وہ جانبر نہ ہو سکی۔
ڈاکٹر سلمان کے مطابق اسپتال انتظامیہ نے بچی کی میت اور اہل خانہ کو آزاد جموں و کشمیر میں ان کے آبائی علاقے تک پہنچانے کے لیے ایمبولینس فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ دوسری جانب یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا بچی کے خاندان کو وہ 50 لاکھ روپے معاوضہ ملے گا جس کا اعلان حکومت نے آتشزدگی کے بعد متاثرہ خاندانوں کے لیے کیا تھا۔ وزارت صحت اور اسپتال حکام نے اس بارے میں حتمی فیصلے کی تصدیق نہیں کی۔
اس واقعے کے بعد پمز میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات، ہنگامی ردعمل اور انتظامی نگرانی پر سوالات اٹھے تھے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر قائم تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں ادارہ جاتی اور نظامی ناکامیوں کی نشاندہی کی اور کہا کہ ذمہ داری کا تعین شواہد کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے۔ رپورٹ کے بعد متعدد اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کی گئی جبکہ بعض افسران کو چارج شیٹس بھی جاری کی گئیں۔
جیو نیوز کے مطابق چھ پمز اہلکاروں کے خلاف باقاعدہ تادیبی کارروائی شروع کی گئی ہے اور انہیں تحریری جواب دینے کے لیے 14 دن دیے گئے ہیں۔ ان پر آگ سے بچاؤ کی تیاری، فائر ڈرلز، عملے کی دستیابی، ایمرجنسی اطلاع، آتش گیر خطرات کی نگرانی اور حفاظتی سازوسامان سے متعلق مختلف الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ یہ الزامات ابھی محکمانہ کارروائی کے مرحلے میں ہیں اور انہیں حتمی طور پر ثابت شدہ ذمہ داری نہیں سمجھا جا سکتا۔
سانحے میں آخری زندہ بچ جانے والے بچے کی موت نے واقعے کی سنگینی مزید بڑھا دی ہے اور اسپتالوں میں آگ سے بچاؤ کے ضابطوں، جواب دہی اور مریضوں، خصوصاً انتہائی نگہداشت میں موجود نومولود بچوں، کے تحفظ سے متعلق قومی سطح پر جاری بحث کو دوبارہ نمایاں کر دیا ہے۔
