کوئٹہ: بلوچستان حکومت نے صوبے میں انسداد دہشت گردی اور داخلی سلامتی کے اقدامات سے متعلق اپنی کارکردگی کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی اور صوبائی ایکشن پلان کے تحت تقریباً 14 ارب روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ صوبائی حکام کے مطابق اس عرصے میں 18 قوانین نافذ کیے گئے اور سلامتی و انسداد دہشت گردی سے متعلق 17 ادارے یا ادارہ جاتی ڈھانچے قائم کیے گئے ہیں۔
ڈان کی 21 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق صوبائی حکومت نے سکیورٹی اقدامات کا جائزہ پیش کرتے ہوئے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مختلف نوعیت کے تقریباً 60 ہزار آپریشن کیے گئے، جن میں 1,100 دہشت گرد مارے گئے۔ یہ اعداد صوبائی حکام کے فراہم کردہ ہیں؛ آزاد ذرائع سے ہر آپریشن اور ہلاکت کی الگ تصدیق رپورٹ میں موجود نہیں، اس لیے انہیں سرکاری دعووں کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔
بلوچستان طویل عرصے سے دہشت گردی، شورش اور مسلح حملوں کے متعدد چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ صوبائی اور وفاقی حکومتیں پولیس، لیویز، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد بڑھانے، انٹیلی جنس تعاون بہتر بنانے اور قانونی فریم ورک مضبوط کرنے کے اقدامات کرتی رہی ہیں۔ تازہ سرکاری جائزے میں اخراجات اور ادارہ جاتی اقدامات کو اسی وسیع سکیورٹی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
حکام نے قانون سازی اور نئے ادارہ جاتی انتظامات کو انسداد دہشت گردی کی صلاحیت بہتر بنانے سے جوڑا ہے، تاہم صرف قوانین یا اداروں کی تعداد سے ان اقدامات کی عملی تاثیر کا مکمل اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ سلامتی کی صورتحال کا جائزہ حملوں کی تعداد، شہری و سکیورٹی اہلکاروں کے جانی نقصان، گرفتار ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی اور متاثرہ علاقوں میں معمولات زندگی جیسے متعدد اشاریوں سے کیا جاتا ہے۔
صوبائی حکومت کے جاری کردہ اعداد و شمار ایک سرکاری پیش رفت رپورٹ کی نوعیت رکھتے ہیں اور انہیں کسی آزاد عدالتی یا تحقیقاتی نتیجے کے برابر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ دستیاب رپورٹ میں 14 ارب روپے کے مجموعی اخراجات کی ہر مد کی تفصیلی تقسیم بھی شامل نہیں، اس لیے مخصوص منصوبوں یا اداروں پر خرچ ہونے والی رقوم کے بارے میں اضافی دعویٰ کرنا درست نہیں ہوگا۔

