کوئٹہ: بلوچستان حکومت نے صوبے میں انسداد دہشت گردی اور سکیورٹی منصوبوں پر عمل درآمد سے متعلق بریفنگ میں کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر تقریباً 14 ارب روپے خرچ کیے گئے ہیں، جبکہ سکیورٹی فریم ورک مضبوط بنانے کے لیے 18 قوانین نافذ اور 17 ادارے قائم کیے گئے۔ صوبائی حکام نے یہ اعداد و شمار امن و امان اور قومی و صوبائی ایکشن پلانز کی پیش رفت کے جائزے کے دوران پیش کیے۔

ڈان کے مطابق حکام نے دعویٰ کیا کہ مختلف سکیورٹی اداروں نے صوبے میں تقریباً 60 ہزار انٹیلی جنس اور سکیورٹی آپریشنز کیے اور ان کارروائیوں میں 1,100 دہشت گرد مارے گئے۔ یہ اعداد صوبائی حکومت اور سکیورٹی حکام کی جانب سے فراہم کیے گئے ہیں؛ آزادانہ طور پر ہر آپریشن اور ہلاکت کی الگ تصدیق رپورٹ میں دستیاب نہیں، اس لیے انہیں سرکاری دعووں کے طور پر بیان کرنا ضروری ہے۔

بلوچستان طویل عرصے سے علیحدگی پسند عسکریت پسندی، فرقہ وارانہ تشدد اور سرحد پار دہشت گرد نیٹ ورکس سے متعلق سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں سکیورٹی فورسز، سرکاری تنصیبات، مسافروں اور ترقیاتی منصوبوں پر حملوں نے صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو انسداد دہشت گردی کے انتظامی اور قانونی ڈھانچے میں مزید سرمایہ کاری پر مجبور کیا ہے۔

صوبائی حکام کے مطابق نئے اداروں اور قوانین کا مقصد انٹیلی جنس تعاون، مقدمات کی پیروی، حساس تنصیبات کے تحفظ اور قانون نافذ کرنے والے محکموں کی صلاحیت بہتر بنانا ہے۔ تاہم انسداد دہشت گردی کی کامیابی کا جائزہ صرف کارروائیوں کی تعداد یا مالی اخراجات سے نہیں بلکہ شہری ہلاکتوں میں کمی، حملوں کی روک تھام، قانونی کارروائی کے معیار اور طویل مدتی سیاسی و معاشی استحکام سے بھی کیا جاتا ہے۔

بلوچستان میں سکیورٹی پالیسی انسانی حقوق اور قانونی نگرانی کے سوالات سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ جبری گمشدگیوں، حراست اور سکیورٹی آپریشنز سے متعلق شکایات مختلف فورمز پر اٹھتی رہی ہیں، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں قانون کے مطابق کی جاتی ہیں۔ موجودہ بریفنگ سرکاری کارکردگی کا بیان ہے اور اس میں پیش کیے گئے نتائج کے وسیع اثرات کا تعین مستقبل میں صوبے کی زمینی سکیورٹی صورت حال سے ہوگا۔