لاہور: جماعت اسلامی پاکستان نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف اپنی ملک گیر احتجاجی تحریک کا تیسرا مرحلہ جمعہ سے شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت ملک کے تمام اضلاع میں دھرنے دینے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ پارٹی کے بیان کے مطابق احتجاج امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کی ہدایت پر ہوگا اور مرکزی مطالبہ پیٹرولیم لیوی کا مکمل خاتمہ ہے۔
جماعت اسلامی کے مطابق وفاقی حکومت اس وقت پیٹرول پر ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کی مد میں مجموعی طور پر 114 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر وصول کر رہی ہے۔ پارٹی نے انہی محصولات کو مہنگائی اور نقل و حمل کی لاگت میں اضافے سے جوڑتے ہوئے ان میں کمی یا خاتمے کے لیے گزشتہ کئی ماہ سے احتجاجی مہم جاری رکھی ہوئی ہے۔
تین ستمبر کو وفاقی حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان اس معاملے پر کمیٹیاں تشکیل دینے پر اتفاق ہوا تھا، جن کا مقصد پیٹرولیم لیوی کم کرنے اور عوام کو ریلیف دینے کے امکانات پر سفارشات تیار کرنا تھا۔ جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ بعد میں وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ملاقات کا پیغام بھی پہنچایا گیا اور دونوں طرف کی کمیٹیوں کو مجوزہ ملاقات کا شیڈول طے کرنا تھا، تاہم پارٹی کے مطابق اس کے بعد حکومت کی جانب سے مزید رابطہ نہیں ہوا۔
پارٹی نے واضح کیا ہے کہ اگر وزیراعظم سے ملاقات ہوتی ہے تو اس کے ایجنڈے میں پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ بنیادی نکتہ ہوگا۔ جماعت اسلامی اس سے پہلے صوبائی دارالحکومتوں میں دھرنوں، ملک گیر ہڑتال اور اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کے مراحل کا اعلان کر چکی ہے۔ ستمبر میں مجوزہ لانگ مارچ وزیراعظم کی درخواست پر ملاقات کے انتظار میں مؤخر کیا گیا تھا۔
حکومت کی جانب سے جماعت اسلامی کے تازہ بیان اور جمعہ کے دھرنوں کے اعلان پر فوری تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ پیٹرولیم لیوی وفاقی محصولات کا اہم ذریعہ ہے، اس لیے اس میں بڑی کمی یا خاتمہ بجٹ اور مالیاتی اہداف پر اثر ڈال سکتا ہے؛ تاہم کسی ممکنہ حکومتی فیصلے کی نوعیت مذاکرات یا باضابطہ مالی اعلان کے بغیر طے شدہ نہیں سمجھی جا سکتی۔
جمعہ کے احتجاج کی اصل وسعت، مقامات اور ٹریفک پر ممکنہ اثرات مقامی جماعتی تنظیموں اور انتظامیہ کے انتظامات سے واضح ہوں گے۔ پارٹی نے کہا ہے کہ اس کی مہم مطالبہ پورا ہونے تک جاری رہے گی۔
