اسلام آباد/تہران: پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی گزرگاہیں دوبارہ کھول دی گئی ہیں، جبکہ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تہران کے دورے میں ایرانی قیادت کے ساتھ سرحدی سلامتی، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر بات چیت کی ہے۔ یہ پیش رفت دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ سرحدی مسائل کے بعد رابطوں کے نتیجے میں سامنے آئی۔

رپورٹ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔ بات چیت میں سرحد کے دونوں جانب سلامتی، آمدورفت اور ایسے انتظامی مسائل زیر بحث آئے جن کے باعث گزرگاہوں کی معمول کی سرگرمیاں متاثر ہوئی تھیں۔ پاکستانی جانب نے کہا کہ مذاکرات کے بعد سرحدی مسائل حل کر لیے گئے اور آمدورفت بحال کرنے کی راہ ہموار ہوئی۔

پاکستان اور ایران کی طویل مشترکہ سرحد بلوچستان اور ایران کے سیستان و بلوچستان خطے سے گزرتی ہے۔ اس راستے سے قانونی تجارت، مقامی سرحدی کاروبار اور زائرین کی آمدورفت ہوتی ہے، اس لیے گزرگاہوں کی بندش کا فوری اثر تاجروں، ٹرانسپورٹرز اور مسافروں پر پڑتا ہے۔ دونوں حکومتیں ماضی میں بھی سرحدی سلامتی اور غیر قانونی نقل و حرکت روکنے کے لیے مشترکہ رابطہ میکنزم استعمال کرتی رہی ہیں۔

فیلڈ مارشل کے دورے میں دوطرفہ دفاعی اور سکیورٹی تعاون کے ساتھ علاقائی استحکام پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دستیاب تفصیلات میں کسی نئے دفاعی معاہدے یا فوجی آپریشن کا اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے ملاقاتوں کو بنیادی طور پر اعلیٰ سطحی سکیورٹی اور سفارتی رابطے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

سرحد دوبارہ کھلنے کے بعد اصل عملی صورتحال متعلقہ کراسنگ پوائنٹس پر کسٹمز، امیگریشن اور مقامی انتظامیہ کے اوقات اور قواعد کے مطابق ہوگی۔ تمام زمینی راستوں پر ایک ہی وقت اور ایک ہی نوعیت کی سہولت لازماً دستیاب نہیں ہوتی، اس لیے مسافروں اور تاجروں کے لیے متعلقہ سرکاری حکام کی تازہ ہدایات اہم رہیں گی۔

پاکستان اور ایران نے حالیہ برسوں میں سرحدی منڈیوں، توانائی، تجارت اور سکیورٹی رابطوں کو بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ موجودہ پیش رفت میں فوری اہمیت سرحدی آمدورفت کی بحالی کی ہے، جبکہ طویل مدتی اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ دونوں جانب مشترکہ سرحدی انتظام، سلامتی اور تجارتی سہولت کاری کے طے شدہ اقدامات کس حد تک مستقل طور پر نافذ ہوتے ہیں۔