جنوبی وزیرستان: لوئر جنوبی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں خسرہ کے کیس سامنے آنے کے بعد بچوں میں متعدی بیماری کے مزید پھیلاؤ پر تشویش پیدا ہوگئی ہے۔ وانا کے ضلعی ہیڈکوارٹر اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ جان محمد کے مطابق اسپتال میں گزشتہ دو روز کے دوران خسرہ کے 13 کیس رجسٹر کیے گئے ہیں۔

اسپتال انتظامیہ کے مطابق پہلے روز سات کیس سامنے آئے جبکہ منگل کو مزید چھ بچوں میں خسرہ رپورٹ ہوا۔ مختصر مدت میں کیسز کے اس اضافے نے مقامی سطح پر نگرانی، ویکسینیشن اور متاثرہ بچوں کے بروقت علاج کی ضرورت بڑھا دی ہے۔ خسرہ انتہائی متعدی بیماری ہے اور کم ویکسینیشن یا متاثرہ بچوں کے قریبی رابطوں میں اس کا پھیلاؤ تیز ہوسکتا ہے۔

محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ وانا کے مختلف علاقوں میں بیشتر بچوں کو خسرہ کی ویکسین دی جا چکی ہے۔ بیماری کے پھیلاؤ کو محدود کرنے اور احتیاطی اقدامات مضبوط بنانے کے لیے مختلف علاقوں میں ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی ہیں۔ حکام کی جانب سے یہ نہیں کہا گیا کہ تمام نئے متاثرہ بچے غیر ویکسین شدہ تھے، اس لیے کیسز کی وجہ کو صرف ویکسینیشن کی کمی سے منسوب کرنا درست نہیں ہوگا۔

مقامی رہائشیوں نے وانا اسپتال میں سہولیات کی کمی پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ متاثرہ بچوں کو مناسب علاج تک رسائی میں مشکلات پیش آرہی ہیں اور ضروری طبی سہولیات بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ شہریوں نے متعلقہ حکام سے ویکسینیشن مہم مضبوط کرنے، ضروری ادویات اور طبی وسائل کی دستیابی یقینی بنانے اور بیمار بچوں کے بروقت علاج کا مطالبہ کیا ہے۔

محکمہ صحت کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق پانچ روز قبل لوئر جنوبی وزیرستان کی تحصیل شکئی کے علاقے سنتوئی میں جڑواں بہن بھائی خسرہ کے باعث انتقال کر گئے تھے۔ یہ اموات حالیہ 13 اسپتال کیسز سے الگ سابقہ واقعہ ہیں، لیکن علاقے میں بیماری کے خطرے کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہیں۔

صحت حکام کے لیے آئندہ اہم مرحلہ نئے کیسز کی فعال نگرانی، متاثرہ بچوں کے رابطوں کی نشاندہی اور ویکسینیشن کوریج میں موجود ممکنہ خلا کا تعین ہوگا۔ مقامی سطح پر علاج کی سہولیات بہتر کرنا بھی ضروری ہے تاکہ پیچیدگی کا شکار بچوں کو بروقت طبی امداد مل سکے اور بیماری کے مزید پھیلاؤ کو محدود کیا جاسکے۔