کراچی: سندھ کابینہ نے سندھ پبلک سروس کمیشن کے مسابقتی امتحانات سے متعلق اہم تبدیلیوں کی منظوری دیتے ہوئے کم از کم پاسنگ مارکس 33 فیصد اور امیدواروں کے لیے بالائی عمر کی حد 33 سال مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں سرکاری بھرتیوں اور صوبائی محصولات سمیت متعدد انتظامی امور پر غور کیا گیا۔
کابینہ کے فیصلے کے مطابق ایس پی ایس سی کے متعلقہ امتحانات میں امیدواروں کے لیے کامیابی کی کم از کم حد 33 فیصد ہوگی۔ بالائی عمر میں اضافہ ان امیدواروں کے لیے اہم ہے جو پہلے مقررہ عمر کی حد عبور کر جانے کے باعث مسابقتی امتحانات میں شرکت نہیں کر سکتے تھے۔ تاہم مختلف آسامیوں، کوٹوں اور خصوصی رعایتوں کے لیے تفصیلی اہلیت متعلقہ قواعد اور اشتہار کے مطابق ہی طے ہوگی۔
صوبائی حکومت کو اس فیصلے کے بعد ایس پی ایس سی کے قواعد، نوٹیفکیشن یا امتحانی ہدایات میں ضروری انتظامی تبدیلیاں کرنا ہوں گی۔ صرف کابینہ منظوری اور کسی مخصوص بھرتی میں عملی اطلاق کے درمیان متعلقہ قانونی و ضابطہ جاتی مراحل ہو سکتے ہیں، اس لیے امیدواروں کو ہر امتحان کے تازہ سرکاری اشتہار اور کمیشن کی ہدایات دیکھنا ضروری ہوگا۔
اجلاس میں صوبے میں پراپرٹی ٹیکس کی وصولی بڑھانے کے منصوبے پر بھی غور کیا گیا۔ سندھ حکومت شہری خدمات اور بلدیاتی مالی وسائل بہتر بنانے کے لیے پراپرٹی ٹیکس کے نظام میں اصلاحات پر کام کر رہی ہے۔ کابینہ کی منظوری کے بعد متعلقہ محکموں کو ٹیکس بیس، ریکارڈ اور وصولی کے طریقہ کار بہتر بنانے کے اقدامات آگے بڑھانے ہوں گے۔
ایس پی ایس سی سے متعلق تبدیلیاں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب صوبائی ملازمتوں کے امیدوار طویل عرصے سے امتحانی شیڈول، عمر کی حد اور بھرتیوں میں تاخیر کے اثرات سے متعلق مطالبات اٹھاتے رہے ہیں۔ عمر کی حد میں اضافہ ان امیدواروں کے لیے اضافی موقع فراہم کر سکتا ہے جن کی اہلیت انتظامی تاخیر یا محدود امتحانی مواقع کے دوران ختم ہوئی۔
پاسنگ مارکس میں تبدیلی کا اثر امتحان کی نوعیت، مقابلے کی سطح اور حتمی میرٹ پر منحصر ہوگا۔ کم از کم کامیابی کی حد پوری کرنا تقرری کی ضمانت نہیں، کیونکہ حتمی انتخاب دستیاب آسامیوں، میرٹ، کوٹہ، انٹرویو اور دیگر مقررہ مراحل سے مشروط رہتا ہے۔ فیصلے کی مکمل عملی تفصیل ایس پی ایس سی اور سندھ حکومت کے باضابطہ قواعد و نوٹیفکیشن سے واضح ہوگی۔
