پشاور: سپریم کورٹ نے خیبرپختونخوا کے انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے ذاتی طور پر پیش ہونے کی ہدایت کی ہے تاکہ وہ عمر قید کے ایک قیدی کی قبل از وقت رہائی سے متعلق عدالتی حکم پر عمل نہ ہونے کی وضاحت کریں۔ عدالت نے دونوں افسران سے یہ بھی پوچھا ہے کہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کیوں نہ شروع کی جائے۔
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل بینچ قیدی گل نواب کی اپیل سن رہا ہے۔ 13 اکتوبر کی سماعت میں عدالت کے علم میں آیا تھا کہ گل نواب کو عمر قید کی سزا سنائی گئی، لیکن جیل حکام نے اسے نو سال، 11 ماہ اور 16 دن کی حراست کے بعد رہا کردیا۔ بینچ نے ابتدائی طور پر اس مدت کے حساب کو متعلقہ قانونی فریم ورک، جیل قواعد اور سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے سے متصادم قرار دینے کا سوال اٹھایا تھا۔
عدالت نے نواز حسین بنام ریاست کے مقدمے میں وضع کردہ اصول کا حوالہ دیا، جس کے مطابق عمر قید بنیادی طور پر مجرم کی باقی قدرتی زندگی تک قید ہے اور مختلف معافیاں یا remissions اصل حراستی مدت کو 15 سال کی قانونی حد سے نیچے نہیں لاسکتیں۔ موجودہ مقدمے میں عدالت یہ جاننا چاہتی ہے کہ گل نواب کو اس مدت سے پہلے کس قانونی اختیار کے تحت رہا کیا گیا۔
بینچ نے پہلے خیبرپختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل، آئی جی جیل خانہ جات اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ سے مشترکہ رپورٹ طلب کی تھی۔ رپورٹ میں قیدی کو دی گئی تمام رعایتوں اور سزا میں کمی کی تفصیلات کے ساتھ قبل از وقت رہائی کی قانونی بنیاد بیان کرنا تھی۔ عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ رہائی کو غیر قانونی قرار دے کر قیدی کو باقی سزا پوری کرنے کے لیے دوبارہ تحویل میں کیوں نہ لیا جائے۔
سپریم کورٹ پشاور رجسٹری کے ایڈیشنل رجسٹرار کی جانب سے جاری شوکاز نوٹس کے مطابق متعلقہ حکام کو 16 اکتوبر کو ہدایت کی گئی تھی کہ مشترکہ رپورٹ 20 اکتوبر تک جمع کرائیں، مگر مقررہ وقت تک رپورٹ پیش نہیں کی گئی۔ سماعت کے موقع پر دونوں اعلیٰ افسران عدالت میں موجود بھی نہیں تھے اور ان کی غیر حاضری کی کوئی اطلاع بھی نہیں دی گئی۔
عدالت نے اس طرز عمل پر ناراضی ظاہر کرتے ہوئے دونوں افسران کو وضاحت کے لیے طلب کیا ہے۔ اس مرحلے پر توہین عدالت ثابت نہیں ہوئی؛ شوکاز نوٹس کا مقصد افسران کو اپنی پوزیشن واضح کرنے کا موقع دینا ہے۔ ان کی وضاحت سننے کے بعد عدالت طے کرے گی کہ توہین عدالت کی باقاعدہ کارروائی یا قیدی کی رہائی کے بارے میں مزید حکم کی ضرورت ہے یا نہیں۔
