کراچی: سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے ملیر 15 میں واقع ایک نجی ہسپتال کو اس رپورٹ کے بعد سیل کر دیا ہے کہ وہاں ختنہ کرانے والے ایک شیر خوار بچے میں ایم پاکس کی لیبارٹری سے تصدیق ہوئی۔ کمیشن کے بیان کے مطابق بچے کو مبینہ طور پر آلودہ قینچی کے استعمال کے بعد انفیکشن ہوا، تاہم انفیکشن کے درست ذریعے سے متعلق حتمی طبی و وبائی تحقیق الگ عمل ہے اور اس مرحلے پر اسے رپورٹ شدہ سبب کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے مطابق کارروائی ضلع صحت افسر کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد کی گئی۔ بچے کے نمونے کی ڈاؤ یونیورسٹی سے وابستہ لیبارٹری میں جانچ ہوئی اور نتیجہ ایم پاکس کے لیے مثبت آیا۔ کمیشن نے ابن حسن ہسپتال، ملیر 15 میں صفائی کی ناقص صورت حال، انفیکشن کی روک تھام اور کنٹرول کے ناکافی انتظامات اور مریضوں کی سلامتی سے متعلق مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی۔
بیان میں کہا گیا کہ کارروائی کے وقت کمیشن کے اہلکاروں کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد کورنگی پولیس کی مدد سے صورت حال پر قابو پایا گیا اور طبی مرکز کو سیل کر دیا گیا۔ کمیشن نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مرکز غیر اہل عملے اور عطائیوں کے ذریعے غیر قانونی طور پر چلایا جا رہا تھا۔ یہ الزامات ریگولیٹری ادارے کے بیان پر مبنی ہیں اور متعلقہ مرکز کا تفصیلی مؤقف فوری طور پر دستیاب نہیں تھا۔
گزشتہ ہفتے 40 روزہ بچے میں بخار اور پورے جسم پر دانے نمودار ہونے کے بعد اسے پہلے ایک نجی ہسپتال لے جایا گیا تھا، جہاں سے اسے سندھ انفیکشس ڈیزیز ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر منتقل کیا گیا۔ بچے کا علاج وہاں جاری رہا۔ ایم پاکس وائرس قریبی جسمانی رابطے، متاثرہ مواد یا آلودہ اشیا کے ذریعے منتقل ہو سکتا ہے، اس لیے طبی آلات کی صفائی اور جراثیم سے پاک کرنے کے طریقہ کار صحت مراکز میں بنیادی حفاظتی تقاضا ہیں۔
واقعے کے بعد ریگولیٹری کارروائی کا مقصد مریضوں کو ممکنہ مزید خطرے سے بچانا اور مرکز کے طریقہ کار کی جانچ کرنا ہے۔ ہسپتال سیل کیے جانے کو کسی فوجداری ذمہ داری کے حتمی تعین کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا؛ اگر مجرمانہ غفلت یا دیگر قانونی خلاف ورزیوں کا معاملہ بنتا ہے تو اس کا فیصلہ متعلقہ تفتیشی اور عدالتی عمل کے ذریعے ہوگا۔
یہ کیس صحت کے نجی مراکز میں انفیکشن کنٹرول، آلات کی اسٹرلائزیشن اور اہل طبی عملے کی موجودگی کی نگرانی کی اہمیت اجاگر کرتا ہے۔ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن اور محکمہ صحت کی مزید تحقیقات سے یہ واضح ہوگا کہ بچے کے انفیکشن کی کڑی کس طرح قائم کی گئی اور مرکز کے خلاف آئندہ کون سی انتظامی یا قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔
