اسلام آباد: وزارت خارجہ نے اپنے افسران اور ملازمین کو سرکاری ذمہ داریوں کے ساتھ نجی معاوضہ یافتہ کام، کاروباری سرگرمی یا دوسری ملازمت اختیار کرنے سے روکنے کے لیے ہدایات جاری کی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد مفادات کے ٹکراؤ، سرکاری وقت اور وسائل کے نجی استعمال اور حساس معلومات سے متعلق خطرات کو محدود کرنا بتایا گیا ہے۔
وزارت کی جانب سے جاری اندرونی ہدایات کا اطلاق ہیڈکوارٹر کے ساتھ بیرون ملک پاکستانی سفارتی مشنز میں تعینات عملے پر بھی ہوتا ہے۔ قواعد کے تحت سرکاری ملازم عام طور پر مجاز اتھارٹی کی پیشگی اجازت کے بغیر نجی تجارت، ملازمت یا معاوضہ حاصل کرنے والی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکتا۔ نئی ہدایات میں انہی اصولوں کی پابندی پر دوبارہ زور دیا گیا ہے۔
سفارتی خدمات میں یہ معاملہ اس لیے زیادہ حساس سمجھا جاتا ہے کہ افسران ریاستی نمائندگی، مذاکرات، قونصلر امور اور بعض اوقات غیر عوامی معلومات تک رسائی رکھتے ہیں۔ کسی نجی ادارے، کاروبار یا فریق کے ساتھ مالی تعلق سرکاری فیصلوں کی غیر جانبداری پر سوال اٹھا سکتا ہے، خواہ عملی طور پر مفادات کا ٹکراؤ پیدا ہوا ہو یا نہ ہوا ہو۔ اسی لیے پیشگی اجازت اور مفادات کے ممکنہ ٹکراؤ کی جانچ کو اہم قرار دیا گیا ہے۔
ہدایات کا مطلب یہ نہیں کہ ہر قسم کی غیر دفتری سرگرمی یکساں طور پر ممنوع ہے۔ سرکاری قواعد بعض علمی، ادبی یا دیگر محدود نوعیت کی سرگرمیوں کے لیے شرائط کے ساتھ گنجائش فراہم کر سکتے ہیں، لیکن جہاں معاوضہ، کاروباری مفاد یا باقاعدہ دوسری ملازمت شامل ہو وہاں متعلقہ اتھارٹی کی منظوری بنیادی شرط ہے۔ کسی مخصوص سرگرمی کی اجازت یا ممانعت اس کی نوعیت اور قابل اطلاق سروس رولز پر منحصر ہوگی۔
وزارت نے افسران کو یاد دلایا ہے کہ بیرون ملک تعیناتی کے دوران میزبان ملک کے قوانین، سفارتی ضابطوں اور پاکستانی سرکاری ملازمت کے قواعد تینوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ نجی کام کے نتیجے میں ٹیکس، ویزا، امیگریشن یا سفارتی حیثیت سے متعلق مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
ان ہدایات کے بعد خلاف ورزی کی صورت میں محکمانہ کارروائی متعلقہ سروس قواعد کے مطابق ہو سکتی ہے۔ تاہم کسی فرد کے خلاف کارروائی یا سزا کا تعین الگ انکوائری، شواہد اور قانونی طریقہ کار کے بعد ہی ہوگا۔ موجودہ اقدام بنیادی طور پر قواعد کی تعمیل یقینی بنانے اور سفارتی عملے کے سرکاری و نجی مفادات کے درمیان واضح حد قائم رکھنے کی انتظامی کوشش ہے۔
