کراچی: شہری انتظامیہ نے کراچی میں آتش بازی اور پٹاخوں کے استعمال پر دفعہ 144 کے تحت پابندی عائد کر دی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق فیصلہ عوامی تحفظ، امن و امان برقرار رکھنے اور آگ لگنے یا حادثات کے خطرات کو کم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ پولیس اور ضلعی حکام کو پابندی پر عمل درآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔

حکم نامے کے تحت عوامی مقامات پر پٹاخے چلانے، آتش بازی کرنے اور ایسے مواد کے استعمال کی اجازت نہیں ہوگی جو شور، آگ یا شہریوں کے لیے خطرے کا باعث بن سکتا ہو۔ پابندی کی خلاف ورزی پر پولیس ضابطہ فوجداری کی متعلقہ دفعات اور دیگر قابل اطلاق قوانین کے تحت کارروائی کر سکتی ہے۔

کراچی جیسے گنجان آباد شہر میں آتش بازی کے دوران آگ لگنے، عمارتوں یا گاڑیوں کو نقصان پہنچنے اور بچوں سمیت شہریوں کے زخمی ہونے کے واقعات کا خطرہ رہتا ہے۔ بلند آواز پٹاخے ہسپتالوں، رہائشی علاقوں اور حساس مقامات کے قریب بھی مسائل پیدا کرتے ہیں۔ انتظامیہ نے انہی خدشات کو پابندی کے جواز میں شامل کیا ہے۔

دفعہ 144 کے احکامات عموماً محدود مدت اور مخصوص سرگرمیوں کے لیے نافذ کیے جاتے ہیں۔ موجودہ پابندی کا دائرہ اور مدت سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق ہوگی، جبکہ کسی مذہبی، قومی یا نجی تقریب کے لیے استثنا صرف اسی صورت میں قابل عمل ہوگا جب مجاز انتظامیہ واضح اجازت دے۔ شہریوں اور تقریبات کے منتظمین کو عمومی مفروضے کے بجائے متعلقہ ضلعی انتظامیہ سے اجازت کی حیثیت کی تصدیق کرنا ہوگی۔

پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ ممنوع سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے مقامی سطح پر نگرانی بڑھائی جائے۔ پٹاخوں اور آتش بازی کے سامان کی فروخت یا ذخیرہ کرنے سے متعلق اگر الگ لائسنسنگ یا ممنوعہ احکامات نافذ ہوں تو ان کی خلاف ورزی پر بھی متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے۔

انتظامیہ نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ پابندی کی پاسداری کریں اور کسی خطرناک یا غیر قانونی آتش بازی کی اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔ پابندی کا بنیادی مقصد تقریبات یا اجتماعات کو روکنا نہیں بلکہ ایسے طریقوں کو محدود کرنا ہے جو آگ، شور، خوف و ہراس یا جسمانی نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔