لاہور: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی لاہور زون ٹیم نے آن لائن جعلی امریکی ڈاک ٹکٹوں کی فروخت سے متعلق ایک بڑے مبینہ فراڈ کیس میں فہیم اکرم نامی شخص کو گرفتار کیا ہے۔ تحقیقاتی ادارے کے مطابق ملزم اس نیٹ ورک کا مرکزی کردار ہے جس کے ذریعے مبینہ طور پر تقریباً 35 ارب روپے مالیت کے جعلی امریکی پوسٹیج اسٹیمپس فروخت کیے گئے۔
حکام کے مطابق کارروائی سائبر کرائم سے متعلق تحقیقات کے بعد کی گئی۔ الزام ہے کہ آن لائن پلیٹ فارمز اور ڈیجیٹل ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے ایسے ڈاک ٹکٹ فروخت کیے گئے جو اصل امریکی ڈاک ٹکٹ ظاہر کیے جاتے تھے۔ تحقیقاتی ادارہ مالی لین دین، ڈیجیٹل اکاؤنٹس، ممکنہ ساتھیوں اور متاثرہ خریداروں سے متعلق شواہد کا جائزہ لے رہا ہے۔
35 ارب روپے کی رقم تحقیقاتی ادارے کی جانب سے بیان کردہ مبینہ فراڈ کے حجم سے متعلق ہے اور اسے عدالتی طور پر ثابت شدہ نقصان یا حتمی مالی ذمہ داری نہیں سمجھا جا سکتا۔ اسی طرح گرفتار شخص پر عائد الزامات ابھی تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے مراحل سے گزریں گے۔ ملزم کو قانون کے تحت دفاع اور الزامات کو چیلنج کرنے کا حق حاصل ہے۔
کیس کی نوعیت اس لیے بھی اہم ہے کہ جعلی ڈاک ٹکٹوں کی آن لائن فروخت سرحد پار ای کامرس، ادائیگی کے نظام اور ڈیجیٹل شناخت کے استعمال سے متعلق سوالات اٹھاتی ہے۔ اگر کسی کاروباری نیٹ ورک نے بیرون ملک صارفین یا پلیٹ فارمز کو نشانہ بنایا ہو تو تحقیقات میں مقامی ریکارڈ کے ساتھ بین الاقوامی اداروں یا پلیٹ فارمز سے معلومات حاصل کرنے کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے۔ تاہم ایسی کسی مخصوص بین الاقوامی کارروائی کی تصدیق دستیاب معلومات میں نہیں کی گئی۔
این سی سی آئی اے پاکستان میں سائبر فراڈ، آن لائن مالی جرائم اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے غلط استعمال سے متعلق مقدمات کی تحقیقات کرتا ہے۔ اس کیس میں اگلا مرحلہ گرفتار ملزم کا ریمانڈ، ڈیجیٹل اور مالی شواہد کی فرانزک جانچ اور ممکنہ دیگر کرداروں کی شناخت ہو سکتا ہے، مگر کسی فرد یا ادارے کی ذمہ داری عدالت میں قابل قبول شواہد سے ہی طے ہوگی۔
حکام نے شہریوں اور آن لائن خریداروں کو غیرمعمولی رعایت پر فروخت ہونے والی سرکاری یا مالی قدر رکھنے والی اشیا کی صداقت جانچنے اور مشکوک ویب سائٹس یا اکاؤنٹس سے لین دین میں احتیاط کی ہدایت کی ہے۔ کیس کی مکمل مالیت اور متاثرین کی تعداد تحقیقات مکمل ہونے کے بعد زیادہ واضح ہوگی۔
