راولپنڈی: انسداد دہشت گردی عدالت نے وکلا ایمان زینب حاضر مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے خلاف سکیورٹی روٹ میں مبینہ مداخلت کے مقدمے میں استغاثہ کے گواہوں پر دفاع کی جانب سے جرح کے لیے ایڈووکیٹ تیمور جنجوعہ کو سرکاری وکیل مقرر کر دیا ہے۔ عدالت نے انہیں اگلی سماعت پر موجود رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کارروائی 22 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔
مقدمے کی سماعت اڈیالہ جیل میں اے ٹی سی جج طاہر عباس سپرا نے کی۔ ایمان مزاری اور ہادی علی کی جانب سے ایڈووکیٹ ایمل خان مندوخیل پیش ہوئے اور سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کی۔ عدالت نے یہ درخواست منظور نہیں کی اور کہا کہ استغاثہ کے گواہ موجود ہیں، اس لیے دفاع جرح کر سکتا ہے۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سینئر وکیل ریاست علی آزاد موجود نہیں اور وہی گواہوں پر جرح کریں گے۔
عدالتی حکم کے مطابق گزشتہ سماعت پر دفاع کو اپنے وکلا کی موجودگی یقینی بنانے کے لیے واضح ہدایت دی گئی تھی۔ عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ دونوں ملزمان خود وکیل ہیں اور چاہیں تو اپنے مقدمے میں جرح کر سکتے ہیں، تاہم انہوں نے بھی ایسا کرنے سے انکار کیا۔ اس صورت حال میں عدالت نے قانون کے تحت سرکاری خرچ پر وکیل مقرر کرنے کا فیصلہ کیا۔
تیمور جنجوعہ کا نام اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل کی جانب سے فراہم کردہ پانچ وکلا کی فہرست میں شامل تھا۔ وہ اس سے قبل ایمان مزاری اور ہادی علی کے خلاف سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق ایک الگ مقدمے میں بھی سرکاری وکیل مقرر ہوئے تھے، جس پر دونوں نے اعتراض کیا تھا۔ موجودہ تقرری سکیورٹی بریچ کے الگ مقدمے کی کارروائی سے متعلق ہے۔
استغاثہ کے مطابق یہ مقدمہ 2024 میں ایک بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کے سکیورٹی روٹ میں مبینہ خلل، رکاوٹیں ہٹانے اور عوامی بے چینی پر اکسانے کے الزامات سے متعلق ہے۔ ایمان اور ہادی پر 7 اکتوبر کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ یہ الزامات ہیں اور مقدمے کا حتمی فیصلہ عدالت نے ابھی نہیں کیا۔
دونوں وکلا کے خلاف دیگر مقدمات اور عدالتی کارروائیاں بھی جاری رہی ہیں، لیکن موجودہ سماعت کا بنیادی نکتہ دفاعی جرح کے لیے سرکاری وکیل کی تقرری ہے۔ آئندہ سماعت میں استغاثہ کے گواہوں پر جرح اور مقدمے کی مزید کارروائی متوقع ہے، جبکہ ملزمان کو قانون کے تحت اپنے دفاع اور عدالتی فیصلوں کو چیلنج کرنے کے حقوق حاصل ہیں۔

