اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک آئینی درخواست کے ذریعے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے 28 اپریل کے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے جس کے مطابق کسی جج کے تبادلے سے پیدا ہونے والی خالی نشست کو صرف تبادلے کے ذریعے ہی پُر کیا جائے گا۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی تین خالی نشستوں پر آئین کے مطابق نئی تقرریاں کی جانی چاہئیں۔
درخواست سپریم کورٹ کے وکیل سید نیاب حسن گردیزی نے وفاق پاکستان، جوڈیشل کمیشن، صدر مملکت اور وزیراعظم کو فریق بناتے ہوئے دائر کی۔ درخواست میں استدلال کیا گیا ہے کہ زیر اعتراض پالیسی کی آئین میں واضح بنیاد موجود نہیں اور یہ آرٹیکل 175 اے کی متعلقہ شق سے متصادم ہے، جس کے تحت جوڈیشل کمیشن ہائیکورٹ کے جج کی ہر خالی نشست کے لیے ایک شخص نامزد کرتا ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ جولائی 2026 میں لاہور ہائیکورٹ، سندھ ہائیکورٹ اور بلوچستان ہائیکورٹ میں خالی نشستیں ابتدائی تقرریوں کے ذریعے پُر کی گئیں، جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی تین خالی نشستوں کو تبادلوں کے لیے مخصوص رکھا گیا۔ درخواست میں اسے امتیازی طرز عمل قرار دیتے ہوئے آئینی مساوات اور تقرری کے طریقہ کار سے متعلق سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
درخواست کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ اس وقت چیف جسٹس اور نو ججوں کے ساتھ کام کر رہی ہے، جبکہ منظور شدہ تعداد چیف جسٹس سمیت 13 ہے۔ یوں تین نشستیں پانچ ماہ سے زائد عرصے سے خالی ہیں۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ خالی نشستوں کو مسلسل برقرار رکھنے سے عدالت کی ادارہ جاتی استعداد اور مقدمات نمٹانے کی صلاحیت پر اثر پڑ سکتا ہے۔
مرکزی درخواست کے ساتھ عبوری ریلیف کی استدعا بھی کی گئی ہے۔ عدالت سے کہا گیا ہے کہ مقدمے کے حتمی فیصلے تک متعلقہ حکام کو ان تین نشستوں کے خلاف کسی جج کے تبادلے کی سفارش، مشورہ یا نوٹیفکیشن جاری کرنے سے روکا جائے۔
درخواست میں جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کو آئین کے آرٹیکلز 4، 25، 175 اے اور 193 اور کمیشن کے قواعد سے متصادم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔ یہ تمام نکات فی الحال درخواست گزار کے قانونی دعوے ہیں؛ عدالت نے ابھی ان کے میرٹ پر حتمی فیصلہ نہیں دیا۔ مقدمے کی آئندہ کارروائی سے واضح ہوگا کہ ہائیکورٹ اس پالیسی اور آئینی تقرری و تبادلے کے باہمی تعلق کی کس طرح تشریح کرتی ہے۔
