فیصل آباد: فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور ان کے بیٹوں کے خلاف مبینہ طور پر تقریباً 32 کروڑ روپے کی ٹیکس چوری سے متعلق مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق ٹیکس حکام کا الزام ہے کہ 2025 اور 2026 کے دوران واجب الادا ٹیکس سے بچنے کے بعد رقوم کو تحائف اور جائیداد کی خریداری سمیت مختلف طریقوں سے اثاثوں میں تبدیل کیا گیا۔

مقدمے میں درج الزامات ابھی تفتیشی اور عدالتی عمل سے گزرنا باقی ہیں، اس لیے انہیں ثابت شدہ جرم نہیں سمجھا جا سکتا۔ متعلقہ افراد کو قانون کے تحت دفاع اور الزامات کا جواب دینے کا حق حاصل ہے۔ ٹیکس حکام کی کارروائی کا مقصد مبینہ آمدن، اثاثوں، ٹیکس گوشواروں اور مالی لین دین کے درمیان فرق کی جانچ کرنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق معاملے میں چیف ایگزیکٹو کے ساتھ ان کے بیٹوں کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں کیونکہ حکام کو شبہ ہے کہ مبینہ طور پر بچائی گئی رقوم کو تحائف یا جائیداد کی منتقلی کے ذریعے ان کے نام اثاثوں میں تبدیل کیا گیا۔ ایسے معاملات میں تفتیشی ادارے عام طور پر بینک ریکارڈ، پراپرٹی دستاویزات، انکم ٹیکس گوشواروں اور آمدن کے ذرائع کا تقابلی جائزہ لیتے ہیں۔

فیسکو ایک سرکاری بجلی تقسیم کار کمپنی ہے جو فیصل آباد اور گرد و نواح کے متعدد اضلاع میں صارفین کو بجلی فراہم کرتی ہے۔ کسی سرکاری ادارے کے اعلیٰ افسر کے خلاف مالی بے ضابطگی کا مقدمہ انتظامی احتساب اور مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق سوالات بھی پیدا کرتا ہے، تاہم ادارہ جاتی کارروائی اور فوجداری یا ٹیکس ذمہ داری کے مراحل الگ قانونی طریقہ کار کے تحت چلتے ہیں۔

مقدمہ درج ہونا تحقیقات کا آغاز یا ایک اہم مرحلہ ہے، حتمی فیصلہ نہیں۔ آئندہ کارروائی میں ملزمان کے بیانات، مالی ریکارڈ اور متعلقہ دستاویزات کا جائزہ لیا جائے گا، جس کے بعد ٹیکس یا عدالتی حکام یہ طے کریں گے کہ الزامات کس حد تک ثابت ہوتے ہیں اور کوئی قابل وصول رقم، جرمانہ یا دیگر قانونی کارروائی بنتی ہے یا نہیں۔