راجن پور: انڈس ہائی وے پر بنگلہ ہدایت کے قریب ایک مسافر بس ڈیوائیڈر سے ٹکرا کر الٹ گئی، جس کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد جاں بحق اور 32 زخمی ہو گئے۔ ریسکیو حکام کے مطابق بس کراچی سے ڈیرہ غازی خان جا رہی تھی جب راجن پور ضلع کی حدود میں حادثہ پیش آیا۔ ابتدائی اطلاعات میں تیز رفتاری کو حادثے کا ممکنہ سبب بتایا گیا، تاہم حتمی ذمہ داری کے تعین کے لیے تحقیقات درکار ہوں گی۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور بس میں پھنسے مسافروں کو نکالنے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا۔ بڑی تعداد میں زخمیوں کی آمد کے باعث راجن پور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال اور آس پاس کی طبی سہولتوں میں ایمرجنسی نافذ کی گئی۔ طبی عملے کو زخمیوں کے علاج کے لیے الرٹ کیا گیا جبکہ شدید زخمی افراد کو ضرورت کے مطابق مزید سہولتوں کی طرف منتقل کرنے کے انتظامات کیے گئے۔
پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے حادثے میں جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی۔ صوبائی حکومت کے مطابق وزیراعلیٰ کی ہدایت پر راجن پور کے ڈپٹی کمشنر جائے حادثہ پہنچے اور امدادی کارروائیوں کی نگرانی کی۔ انہوں نے زخمیوں کو بہترین ممکنہ علاج فراہم کرنے اور حادثے کے ذمہ دار عناصر کے خلاف فوری کارروائی کی بھی ہدایت کی۔
پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے حادثے کے حالات کا جائزہ شروع کر دیا ہے۔ بس کی رفتار، ڈرائیور کی حالت، گاڑی کی فٹنس اور سڑک کی صورتحال جیسے عوامل تحقیقات کا حصہ بن سکتے ہیں۔ حکام کی جانب سے ابتدائی بیانات کے باوجود کسی ایک وجہ کو باضابطہ طور پر حتمی قرار نہیں دیا گیا، اس لیے ذمہ داری کے بارے میں نتیجہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔
پاکستان میں بین الاضلاعی شاہراہوں پر بس حادثات میں تیز رفتاری، ڈرائیور کی تھکن، گاڑیوں کی ناقص دیکھ بھال اور بعض مقامات پر سڑک کی حالت جیسے عوامل بار بار زیر بحث آتے ہیں۔ راجن پور کا تازہ حادثہ ایک روز قبل ملتان میں پیش آنے والے ایک الگ سڑک حادثے کے بعد ہوا، جہاں تیز رفتار گاڑی ڈیوائیڈر سے ٹکرانے کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
