اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وفاقی دارالحکومت میں طویل عرصے سے مؤخر بلدیاتی انتخابات کے لیے نیا انتخابی پروگرام تیار اور جاری کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ پانچ رکنی کمیشن نے قرار دیا کہ اسلام آباد کی مقامی حکومت کے انتخابات اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 کے تحت کرائے جائیں گے، جو کمیشن کے مطابق قانونی طور پر نافذ العمل ہے۔

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں بنچ نے بلدیاتی انتخابات میں مسلسل تاخیر سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران یہ حکم جاری کیا۔ بنچ میں نثار احمد درانی، شاہ محمد جتوئی، بابر حسن بھروانہ اور جسٹس ریٹائرڈ اکرام اللہ خان بھی شامل تھے۔ سماعت میں وزارت داخلہ کے سیکریٹری اور اسلام آباد انتظامیہ کے نمائندے پیش ہوئے، جبکہ الیکشن کمیشن کے متعلقہ حکام نے انتخابی عمل اور قانونی صورت حال پر بریفنگ دی۔

مختصر حکم میں کمیشن نے آئین کے آرٹیکلز 140 اے، 218(3)، 219 اور 220، الیکشنز ایکٹ 2017 کی متعلقہ شق اور آئی سی ٹی لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 کی دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے دفتر کو فوری طور پر انتخابی پروگرام تیار کرنے کی ہدایت کی۔ کمیشن نے کہا کہ انتخابات کی بروقت تکمیل کے لیے تمام نتیجہ خیز اقدامات تیزی سے اور قانون کے مطابق کیے جائیں۔

اسلام آباد میں منتخب بلدیاتی حکومت کی مدت فروری 2021 میں ختم ہوئی تھی اور اس کے بعد مختلف قانونی اور انتظامی وجوہات کے باعث نئے انتخابات نہیں ہو سکے۔ جنوری 2026 میں جاری ایک ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے بلدیاتی ڈھانچے میں تبدیلی کی گئی تھی اور نئی حلقہ بندیوں کی ضرورت پیدا ہوئی، جس کے بعد پہلے سے جاری انتخابی شیڈول واپس لے لیا گیا۔ بعد ازاں متبادل قانون سازی مکمل نہ ہو سکی اور متعلقہ آرڈیننس ستمبر میں اپنی مدت پوری کر گیا۔

الیکشن کمیشن کے حکام کے مطابق اس دوران حلقہ بندیوں اور انتخابی شیڈول سے متعلق متعدد مراحل مکمل یا دوبارہ شروع کیے گئے۔ کمیشن نے وزارت داخلہ اور چیف کمشنر اسلام آباد سے بھی معاونت طلب کی تھی تاکہ آرڈیننس ختم ہونے کے بعد انتخابات کے قانونی راستے کا تعین کیا جا سکے۔ اب کمیشن نے 2015 کے بنیادی قانون کے تحت عمل آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس حکم کا عملی نتیجہ یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کا دفتر نیا انتخابی پروگرام جاری کرے گا۔ پولنگ کی حتمی تاریخ اور دیگر مرحلہ وار تفصیلات باضابطہ شیڈول میں سامنے آئیں گی، اس لیے حکم کو بذات خود پولنگ تاریخ کے اعلان کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔