کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے ’’بلوچستان وسل بلوور پروٹیکشن بل 2026‘‘ کا شق وار جائزہ مکمل کرنے کے بعد اسے مزید غور اور حتمی منظوری کے لیے صوبائی اسمبلی کے ایوان میں پیش کرنے کی سفارش کر دی ہے۔ مجوزہ قانون کا مقصد سرکاری امور میں بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور انتظامی بے ضابطگیوں سے متعلق مفادِ عامہ کی معلومات سامنے لانے والے شہریوں کو قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے۔
سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ سے متعلق قائمہ کمیٹی نے اجلاس میں بل کی مختلف دفعات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ کمیٹی نے ان شقوں پر بھی غور کیا جن کے تحت قابل اعتماد اور تصدیق شدہ معلومات فراہم کرنے والے افراد کے لیے ترغیب یا انعام کا طریقہ کار رکھا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی جھوٹی، بدنیتی پر مبنی یا بے بنیاد شکایات کے خلاف کارروائی کے اقدامات بھی زیر بحث آئے۔
مجوزہ قانون کا بنیادی تصور یہ ہے کہ نیک نیتی سے مستند شکایت کرنے والے شہری کو انتقامی کارروائی، ہراسانی، امتیازی سلوک یا دیگر دباؤ سے بچایا جا سکے۔ تاہم کمیٹی کی سفارش قانون کے نافذ ہونے کے مترادف نہیں ہے؛ بل کو ابھی صوبائی اسمبلی کے ایوان میں مزید غور اور منظوری کے مراحل سے گزرنا ہوگا۔
کمیٹی کے چیئرمین سید ظفر علی آغا نے اجلاس کی صدارت کی۔ ان کے مطابق نیک نیتی سے معلومات دینے والوں کے تحفظ سے سرکاری معاملات میں احتساب مضبوط ہو سکتا ہے اور اختیارات کے غلط استعمال کی نشاندہی کے لیے مؤثر نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہر شق کا مکمل جائزہ ضروری ہے تاکہ قانون عملی، مؤثر اور عوامی مفاد کے مطابق رہے۔
اجلاس میں کمیٹی کے ارکان میر جہانزیب مینگل اور شاہدہ رؤف، ایس اینڈ جی اے ڈی کے پارلیمانی سیکریٹری عبدالمجید بادینی، اسمبلی کے اسپیشل سیکریٹری عبدالرحمن اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ تفصیلی غور کے بعد کمیٹی نے بل کو ایوان کے سامنے رکھنے کی سفارش کی۔
اگر صوبائی اسمبلی بل منظور کرتی ہے اور باقی آئینی و قانونی مراحل مکمل ہوتے ہیں تو یہ قانون سرکاری بدعنوانی یا انتظامی بے ضابطگیوں کی اطلاع دینے والوں کے تحفظ کے لیے ایک باقاعدہ صوبائی فریم ورک فراہم کر سکتا ہے۔ فی الحال معاملہ قانون سازی کے مرحلے میں ہے اور اس کے عملی نفاذ، شکایت کے طریقہ کار اور ممکنہ انعام یا سزا کی حتمی صورت منظور شدہ متن سے طے ہوگی۔
