اسلام آباد: پاکستان میں نئی پاسپورٹ درخواستوں کے لیے الیکٹرانک پاسپورٹ کے لازمی اجرا کی پالیسی 23 اکتوبر 2026 سے نافذ ہوگئی ہے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کے نظرثانی شدہ شیڈول کے مطابق یہ تبدیلی ملک بھر کے پاسپورٹ دفاتر کے ساتھ بیرون ملک پاکستانی سفارتی مشنز پر بھی لاگو ہوگی، جہاں نئی درخواست یا تجدید کی صورت میں الیکٹرانک پاسپورٹ جاری کیا جائے گا۔
نظرثانی شدہ ٹائم لائن کے تحت مشین ریڈایبل پاسپورٹ کی نئی اجرا اور تجدید کی سہولت 22 اکتوبر تک دستیاب رہی۔ اس کے بعد نئی درخواستوں کو ای پاسپورٹ نظام میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ 23 اکتوبر سے پہلے جاری کیے گئے مشین ریڈایبل پاسپورٹس منسوخ نہیں ہوں گے اور ان کے حامل افراد کو صرف پالیسی تبدیلی کی وجہ سے قبل از وقت نیا پاسپورٹ بنوانے کی ضرورت نہیں۔ ایسے پاسپورٹس اپنی درج شدہ میعاد تک قابل استعمال رہیں گے۔
ای پاسپورٹ میں روایتی سفری دستاویز کے ساتھ ایک الیکٹرانک چپ شامل ہوتی ہے جس میں حامل پاسپورٹ کی شناخت سے متعلق محفوظ ڈیجیٹل معلومات رکھی جاتی ہیں۔ اس نظام کا مقصد سفری دستاویزات کی سکیورٹی بہتر بنانا، شناخت کی تصدیق کو زیادہ موثر بنانا اور بین الاقوامی سطح پر جدید پاسپورٹ معیارات سے ہم آہنگ ہونا ہے۔
پاکستان میں ای پاسپورٹ کی سہولت پہلے مرحلہ وار متعارف کرائی گئی تھی، تاہم تازہ تبدیلی اسے نئی درخواستوں کے لیے عمومی اجرا کے نظام میں تبدیل کرتی ہے۔ حکام نے اس نفاذ کی تاریخ پہلے 15 اکتوبر مقرر کی تھی، جسے بعد میں تبدیل کرکے 23 اکتوبر کردیا گیا۔ اس لیے نئی تاریخ کو پالیسی کے لازمی اطلاق کے آغاز کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
اس تبدیلی کا براہ راست اثر ان شہریوں پر ہوگا جو اب نیا پاسپورٹ بنوانا یا موجودہ دستاویز کی تجدید کرانا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف ایسے شہری جن کے پاس پہلے سے درست مشین ریڈایبل پاسپورٹ موجود ہے، وہ اس دستاویز کو اس کی میعاد ختم ہونے تک استعمال کرسکتے ہیں، بشرطیکہ دیگر معمول کے سفری اور ویزا تقاضے پورے ہوں۔
تازہ پالیسی کا بنیادی قابل تصدیق نکتہ یہ ہے کہ 23 اکتوبر سے نئی اجرا کا معیار ای پاسپورٹ بن گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام پہلے سے جاری مشین ریڈایبل پاسپورٹ غیر موثر ہوگئے ہیں۔ موجودہ دستاویزات کی قانونی حیثیت ان کی میعاد تک برقرار رکھنے کی وضاحت شہریوں کے لیے اہم ہے تاکہ غیر ضروری فوری تبدیلی یا سفر سے متعلق غلط فہمی پیدا نہ ہو۔

