بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں سکیورٹی فورسز نے ایک تعمیراتی کمپنی کے خالی کیمپ پر حملے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ ایکسپریس ٹریبیون نے سرکاری ریڈیو پاکستان اور سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ فورسز نے حملے کی کوشش پر فوری ردعمل دیا اور کیمپ کو نشانہ بنائے جانے سے بچایا۔

رپورٹ کے مطابق حکام نے حملہ آوروں کو ریاستی اصطلاح میں فتنہ الہندوستان سے وابستہ قرار دیا۔ اس نسبت کی آزادانہ تصدیق رپورٹ میں پیش نہیں کی گئی، اس لیے اسے سرکاری دعوے کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے۔ سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ کارروائی کے دوران تین حملہ آور مارے گئے اور مزید افراد کو گھیرے میں لینے کی کوشش کی گئی۔ گوادر ہائی وے کے قریب ایک مقامی ہوٹل میں موجود مسلح افراد کے خلاف بھی الگ کارروائی جاری ہونے کی اطلاع دی گئی۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سکیورٹی فورسز کی کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشن جاری رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ قوم سکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔ یہ بیان حکومتی مؤقف کی نمائندگی کرتا ہے۔ واقعے کے فوری بعد دستیاب معلومات میں حملہ آوروں کی مکمل شناخت، ان کے ہدف کی تفصیلی نوعیت یا جاری کارروائی کے حتمی نتائج سامنے نہیں آئے تھے۔

اسی روز خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں پولیس اور مسلح افراد کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں سی ٹی ڈی کے ڈی ایس پی سمیت چار پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی بھی اطلاع دی گئی، تاہم یہ گوادر واقعے سے الگ سکیورٹی واقعہ ہے۔ گوادر اور بلوچستان کے دیگر حصوں میں حالیہ عرصے کے دوران سکیورٹی تنصیبات، سرکاری اہلکاروں اور شہری اہداف پر حملوں کے تناظر میں فورسز نے انسداد دہشت گردی کارروائیاں تیز کر رکھی ہیں۔ موجودہ خبر صرف گوادر کے تعمیراتی کیمپ پر حملے کی کوشش اور اس کے فوری سکیورٹی ردعمل سے متعلق ہے؛ جاری آپریشن کے بارے میں مزید تفصیلات سرکاری تصدیق کے بعد واضح ہوں گی۔