راولپنڈی: اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ راولپنڈی نے وارث خان پولیس اسٹیشن کے ایک سب انسپکٹر کے خلاف بدعنوانی، رشوت وصول کرنے اور اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال کے الزامات پر مقدمہ درج کرلیا ہے۔ پولیس افسر پر الزام ہے کہ اس نے 19 سالہ سمیع اللہ سے ڈھائی لاکھ روپے وصول کیے اور بعد میں اسے 2,800 گرام چرس فروخت کرنے کے مقدمے میں نامزد کیا۔ یہ الزامات ابھی عدالتی طور پر ثابت نہیں ہوئے اور ملزم افسر کو قانونی دفاع کا حق حاصل ہے۔
ایکسپریس ٹریبیون کی 23 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق نوجوان کے والد طاہر خان نے اینٹی کرپشن حکام کو سی سی ٹی وی اور موبائل فون سے بنائی گئی ویڈیوز، مبینہ رقم وصولی سے متعلق مواد اور کال ریکارڈ فراہم کیے۔ شکایت کنندہ کا موقف ہے کہ پولیس افسر نے مزید رقم کا مطالبہ کیا اور انکار پر اس کے بیٹے کے خلاف منشیات کا مقدمہ بنایا۔ یہ شکایت کنندہ کا الزام ہے؛ اس کی حقیقت کا حتمی تعین تفتیش اور عدالتی کارروائی میں ہوگا۔
اینٹی کرپشن پولیس اسٹیشن نے متعلقہ افسر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بعد گرفتاری کے لیے چھاپوں کا آغاز کیا، جبکہ رپورٹ کے مطابق پولیس افسر نے عبوری ضمانت حاصل کرلی ہے۔ عبوری ضمانت کا مطلب الزامات سے بری ہونا نہیں بلکہ عدالتی کارروائی کے دوران گرفتاری سے عارضی قانونی تحفظ ہوتا ہے۔ اسی طرح ایف آئی آر کا اندراج بھی بذات خود جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہے۔
دوسری جانب نوجوان سمیع اللہ کے وکیل ملک امجد اعوان نے اس کے لیے ضمانت کی درخواست دائر کی ہے۔ متعلقہ عدالتی بینچ نے مقدمے کا مکمل ریکارڈ طلب کیا ہے۔ اس مرحلے پر منشیات کے اصل مقدمے، مبینہ رشوت اور پولیس افسر کے طرز عمل سے متعلق دعوے الگ الگ قانونی جانچ کے تابع ہیں۔
یہ معاملہ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں احتساب اور تفتیشی اختیارات کے استعمال سے متعلق اہم سوالات اٹھاتا ہے، تاہم دستیاب مواد کی بنیاد پر کسی فریق کو مجرم قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ تصدیق شدہ پیش رفت صرف یہ ہے کہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے مقدمہ درج کیا، شکایت کنندہ نے ویڈیو اور دیگر مواد پیش کرنے کا دعویٰ کیا، افسر کو عبوری ضمانت ملی اور نوجوان کی ضمانت سے متعلق عدالتی کارروائی جاری ہے۔
