پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی کی ممکنہ گرفتاری کے خلاف درخواست پر حکام کو آئندہ سماعت تک انہیں گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے ان کی سرکاری رہائش گاہ خالی کرانے سے متعلق حکم بھی عارضی طور پر معطل کردیا اور کیس کی اگلی سماعت 10 نومبر مقرر کردی۔
عدالتی حکم ایک ایسی درخواست پر جاری ہوا جس میں درخواست گزار نے اپنی ممکنہ گرفتاری اور سرکاری رہائش گاہ کو سیل کرنے یا خالی کرانے کے اقدامات کو چیلنج کیا تھا۔ دستیاب عدالتی کارروائی کے مطابق بینچ نے جواب دہندگان کو مقررہ تاریخ تک گرفتاری سے روکا اور متعلقہ حکام سے جواب طلب کیا۔ یہ عبوری ریلیف ہے اور اسے درخواست کے حق میں حتمی فیصلہ نہیں سمجھا جاسکتا۔
ثریا بی بی کے خلاف مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کی دفعہ 3 کے تحت ممکنہ کارروائی کا معاملہ بھی درخواست میں اٹھایا گیا۔ عدالت کے سامنے بنیادی سوال یہ ہے کہ حکام کی جانب سے کیے گئے یا متوقع اقدامات قانونی تقاضوں کے مطابق ہیں یا نہیں۔ عدالت نے اس مرحلے پر الزامات یا حکومتی مؤقف کی حتمی صحت کا تعین نہیں کیا بلکہ درخواست گزار کو عبوری تحفظ فراہم کیا ہے تاکہ فریقین کے دلائل سننے تک صورتحال ناقابل واپسی نہ ہوجائے۔
خیبرپختونخوا میں حالیہ سیاسی اور انتظامی کشیدگی کے دوران صوبائی اسمبلی کے عہدیداروں اور حکومت کے درمیان مختلف معاملات عدالتوں تک پہنچے ہیں۔ سرکاری رہائش گاہ اور گرفتاری سے متعلق یہ مقدمہ بھی اسی وسیع سیاسی ماحول میں سامنے آیا ہے، تاہم قانونی طور پر ہر درخواست کا فیصلہ اس کے اپنے ریکارڈ، حکومتی احکامات اور متعلقہ قانون کی بنیاد پر ہونا ہے۔
پشاور ہائیکورٹ کے تازہ حکم کا قابل تصدیق نتیجہ یہ ہے کہ ثریا بی بی کو فی الحال گرفتاری سے تحفظ ملا ہے اور رہائش گاہ خالی کرانے کا اقدام معطل ہے۔ عدالت نے ابھی یہ قرار نہیں دیا کہ ممکنہ ایم پی او کارروائی مستقل طور پر غیر قانونی ہے۔ حتمی حیثیت آئندہ سماعتوں، سرکاری جواب اور عدالت کے بعد کے فیصلے سے واضح ہوگی۔

