سندھ میں ایم پاکس کے دو نئے کیس سامنے آنے کے بعد صوبے میں رواں سال رپورٹ ہونے والے تصدیق شدہ مریضوں کی مجموعی تعداد 95 ہوگئی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی 23 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق نئے مریضوں میں 21 سالہ سلمان علی اور 23 سالہ عشرت فاطمہ شامل ہیں، جن کے ٹیسٹ مثبت آئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ صوبے میں ایم پاکس سے منسلک اموات کی تعداد 11 تک پہنچ چکی ہے۔ یہ اعداد و شمار متعلقہ صحت حکام سے منسوب کیے گئے ہیں۔ ایم پاکس ایک وائرل بیماری ہے جس میں بخار، جسمانی درد، لمف نوڈز کی سوجن اور جلد پر دانے یا زخم جیسی علامات سامنے آ سکتی ہیں، تاہم ہر مریض میں علامات اور شدت مختلف ہو سکتی ہے۔ کسی مشتبہ مریض کی حتمی تشخیص طبی معائنے اور مناسب ٹیسٹ کے ذریعے ہی کی جاتی ہے۔
صوبائی سطح پر نئے کیسز کا سامنے آنا نگرانی، بروقت تشخیص اور مریضوں کے رابطوں کی نشاندہی کی اہمیت کو بڑھاتا ہے۔ دستیاب رپورٹ میں نئے مریضوں کی مکمل سفری تاریخ، انفیکشن کے ممکنہ ذریعے یا ان کے رابطوں کی تفصیلی معلومات فراہم نہیں کی گئیں، اس لیے وائرس کے پھیلاؤ کے کسی مخصوص راستے کے بارے میں نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
صحت عامہ کے تناظر میں حکام کے لیے ضروری ہے کہ تصدیق شدہ کیسز کے اعداد و شمار باقاعدگی سے جاری کیے جائیں اور مشتبہ مریضوں کو تشخیص اور علاج تک رسائی دی جائے۔ شہریوں کو بھی علامات کی صورت میں خود تشخیصی انداز اپنانے کے بجائے مستند طبی مرکز سے رابطہ کرنا چاہیے۔ موجودہ اعداد و شمار سندھ میں رپورٹ شدہ کیسز کی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں اور ان میں مزید تبدیلی آئندہ سرکاری اپ ڈیٹس کے ساتھ ہو سکتی ہے۔ رپورٹ میں ملک گیر مجموعی تعداد کے بجائے سندھ کے اعداد و شمار پر توجہ دی گئی ہے، اس لیے صوبائی تعداد کو پاکستان کی مجموعی صورتحال کے مساوی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

