گلگت بلتستان میں بلتستان روڈ شنگوس کے قریب بڑے لینڈ سلائیڈ کے باعث بند ہوگئی ہے، جس سے سکردو، روندو اور دیگر علاقوں کے درمیان زمینی رابطہ متاثر ہوا اور ہزاروں مسافر مختلف مقامات پر پھنس گئے۔ مقامی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں نے شاہراہ سے ملبہ ہٹانے کے لیے بھاری مشینری روانہ کی ہے، تاہم پہاڑی حصے میں پتھر اور مٹی گرنے کے باعث بحالی کے کام میں احتیاط برتی جا رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ روندو کے علاقے شنگوس کے قریب ہوئی، جہاں پہاڑی تودہ سڑک کے ایک حصے پر آ گرا۔ بلتستان روڈ سکردو کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والی اہم زمینی گزرگاہوں میں شامل ہے، اس لیے بندش سے مقامی آبادی کے ساتھ سیاحوں، مال بردار گاڑیوں اور بین الاضلاعی سفر پر فوری اثر پڑا۔ دونوں اطراف گاڑیوں کی قطاریں لگنے اور مسافروں کے انتظار کی اطلاعات سامنے آئیں۔

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ نے مسافروں کو بحالی تک غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ پہاڑی شاہراہوں پر لینڈ سلائیڈ کے بعد ثانوی تودے گرنے کا خطرہ بھی رہتا ہے، اس لیے سڑک کھولنے والی ٹیموں کو پہلے ڈھیلے پتھروں اور ڈھلوان کی صورتحال کا جائزہ لینا پڑتا ہے۔ حکام نے متاثرہ حصے میں مشینری اور عملہ تعینات کیا ہے تاکہ راستہ جلد بحال کیا جا سکے۔

بلتستان روڈ کی بندش سے خوراک، ایندھن اور دیگر ضروری سامان کی ترسیل بھی متاثر ہو سکتی ہے اگر راستہ طویل وقت تک بند رہے۔ سکردو اور گرد و نواح میں سیاحتی سرگرمی کے باعث روزانہ بڑی تعداد میں مسافر اس شاہراہ کو استعمال کرتے ہیں۔ اسی لیے انتظامیہ کے لیے ٹریفک کی مرحلہ وار بحالی اور پھنسے ہوئے مسافروں کو محفوظ مقامات تک پہنچانا ترجیحی امور میں شامل ہے۔

گلگت بلتستان کے پہاڑی علاقوں میں موسم، بارش، برف باری اور زمین کی ساخت کے باعث شاہراہوں پر تودے گرنے کے واقعات وقفے وقفے سے پیش آتے رہتے ہیں۔ ایسے واقعات میں سڑک کھولنے کے باوجود دوبارہ پتھر گرنے کا امکان رہ سکتا ہے، اس لیے مسافروں کو روانگی سے پہلے مقامی انتظامیہ اور ٹریفک حکام سے تازہ صورتحال معلوم کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔

ابتدائی اطلاعات میں کسی جانی نقصان کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ واقعے کا بنیادی اثر ٹریفک اور زمینی رابطے پر پڑا ہے، جبکہ سڑک کی مکمل بحالی کا وقت ملبے کی مقدار، ڈھلوان کے استحکام اور امدادی ٹیموں کی پیش رفت پر منحصر ہوگا۔